بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1537 — نماز میں زیادتی پر سجدہ سہو کا بیان
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل نماز میں زیادتی پر سجدہ سہو کا بیان حدیث 1537
حدیث نمبر: 1537 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، شُعْبَةَ ، الْحَكَمِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ "صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا، فَقِيلَ لَهُ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر کی پانچ رکعت نماز پڑھی، آپ کو جب آگاه کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو سجدے (سہو کے) کر لئے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1537]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1539] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 404] ، [مسلم 572] ، [أبوداؤد 1019] ، [ترمذي 392] ، [نسائي 1253، 1254] ، [ابن ماجه 1205] ، [أبويعلی 5002] ، [ابن حبان 2656] ، [مسند الحميدي 96]
وضاحت
(تشریح احادیث 1535 سے 1537)
مذکورہ بالا تینوں احادیث سے ثابت ہوا کہ نبیوں سے بھی بھول چوک ہو سکتی ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز میں اگر اس گمان پر کہ نماز پوری ہو چکی ہے کوئی بات کر لے تو نماز کا نئے سرے سے لوٹانا واجب نہیں ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود نہ نئے سرے سے نماز کو لوٹایا اور نہ لوگوں کو نماز لوٹانے کا حکم دیا۔
نیز سجدۂ سہو بھی ان احادیث سے ثابت ہوا، اب یہ کہ سلام پھیرنے سے پہلے سجدۂ سہو کرنا چاہئے یا سلام کے بعد، تو اس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
یہ حدیث ذواليدین یا ذوالشمالین سے مشہور ہے جن کا نام خرباق تھا۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (1536) باب پر واپس اگلی حدیث (1538) →