بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 147 — ان لوگوں کا بیان جنہوں نے فتوی دینے سے خوف کھایا اور غلو و زیادتی یا بدعت ایجاد کرنے کو برا سمجھا
کتب سنن دارمی مقدمہ ان لوگوں کا بیان جنہوں نے فتوی دینے سے خوف کھایا اور غلو و زیادتی یا بدعت ایجاد کرنے کو برا سمجھا حدیث 147
أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَيَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ سورة آل عمران آية 7 فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا رَأَيْتُمْ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ، فَاحْذَرُوهُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: « ﴿هُوَ الَّذِيْ أَنْزَلَ ...﴾ » (آل عمران: 7/3) اور فرمایا: جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو آیات متشابہات کی تلاش میں رہتے ہوں تو ان سے بچو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 147]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «حديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 147] »
یہ متفق علیہ صحیح حدیث ہے۔ دیکھئے: [البخاري 4547] ، [مسلم 2665]
وضاحت
(تشریح احادیث 145 سے 147)
محکم سے مراد وہ آیات ہیں جن کا معنی ومفہوم واضح اور صریح امر یا نہی کی صورت میں ہو، اور اس کا حکم اٹل ہو، اور متشابہ اس کے برعکس ہے۔
ان دونوں روایات سے معلوم ہوا کہ متشابہات میں خوض سے بچنا چاہیے، جیسا کہ دوسری متفق علیہ حدیث سے واضح ہوتا ہے۔
ترجمہ آیتِ مذکورہ بالا: وہی اللہ تعالیٰ ہے جس نے آپ پر کتاب اتاری جس میں بعض آیات محکم (مضبوط) ہیں جو اصل کتاب ہیں، اور بعض متشابہ آیات ہیں۔
جن کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔
الحكم: حديث متفق عليه
← پچھلی حدیث (146) باب پر واپس اگلی حدیث (148) →