بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1442 — مسجد جاتے ہوئے انگلیوں سے کھیلنے کی ممانعت کا بیان
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل مسجد جاتے ہوئے انگلیوں سے کھیلنے کی ممانعت کا بیان حدیث 1442
حدیث نمبر: 1442 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ ، سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق ، أَبِي ثُمَامَةَ الْحَنَّاطِ ، كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَنْبأَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ أَبِي ثُمَامَةَ الْحَنَّاطِ، قَالَ: أَدْرَكَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ بِالْبَلَاطِ، وَأَنَا مُشَبِّكٌ بَيْنَ أَصَابِعِي، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَا يُشَبِّكُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوثمامہ حناط نے کہا: مجھ کو سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے بلاط پر پا لیا (مسجد جاتے ہوئے) اور میں انگلیوں میں انگلیاں داخل کئے ہوئے تھا، تو انہوں نے کہا: رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے: جب تم میں سے کوئی وضو کر کے مسجد میں نماز کے قصد سے نکلے تو تشبیک نہ کرے (گویا کہ وہ نماز کے اندر ہے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1442]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل أبي ثمامة الحناط، [مكتبه الشامله نمبر: 1444] »
یہ حدیث حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 562] ، [ترمذي 386] ، [ابن حبان 2039] ، [موارد الظمآن 315، 316]
وضاحت
(تشریح حدیث 1441)
اشتباک یا تشبیک انگلیوں میں انگلیاں داخل کرنے کو اور انگلیاں چٹخانے کو کہتے ہیں۔
الحكم: إسناده حسن من أجل أبي ثمامة الحناط
← پچھلی حدیث (1441) باب پر واپس اگلی حدیث (1443) →