عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ، حَفْصَةَ
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَنْبأَنَا مَالِكٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عثمان بن عمر کے طریق سے بھی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث مروی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1424]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1426] »
اس روایت کا حوالہ پچھلی حدیث میں گذر چکا ہے۔ نیز دیکھئے: [الموطأ: صلاة الجماعة: ۲۲]
وضاحت
(تشریح احادیث 1422 سے 1424)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا آخری عمر میں بیٹھ کر نفلی نماز پڑھنا کمزوری کی وجہ سے تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خاصیت تھی، جیسا کہ پچھلے باب میں گذر چکا ہے، نیز یہ فعل ہے اور پچھلے باب میں حدیث قولی کا ذکر گزر چکا ہے اور حدیث کے قواعد کی رو سے قول فعل پر مقدم ہوتا ہے، ان تمام دلائل کی روشنی میں بیٹھ کر نفلی نماز پڑھنا کسی طرح سنّت نہیں ہو سکتا اور افضل کھڑے ہو کر ہی نماز پڑھنا ہے۔
واللہ اعلم
الحكم: إسناده صحيح