بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1410 — اشتمال صماء سے ممانعت کا بیان
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل اشتمال صماء سے ممانعت کا بیان حدیث 1410
حدیث نمبر: 1410 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: "نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ: أَنْ يَحْتَبِيَ أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ بَيْنَ فَرْجِهِ وَبَيْنَ السَّمَاءِ شَيْءٌ، وَعَنْ الصَّمَّاءِ اشْتِمَالِ الْيَهُودِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو طرح کے لباس سے منع فرمایا: ایک اس سے کہ کوئی شخص ایک کپڑے میں گوٹ مار کر اس طرح بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ اور آسمان کے درمیان کوئی پردہ نہ ہو، دوسرے اشتمال صماء سے جو یہود کا پہناوا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1410]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1412] »
اس روایت کی سند حسن ہے، لیکن حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 368، 584] ، [نسائي 4529] ، [ابن ماجه 3560] ، [أبويعلی 6124] ، [ابن حبان 2290 وغيرهم]
وضاحت
(تشریح حدیث 1409)
اشتمال صماء ایک کپڑے کو اس طرح سارے بدن پر لپیٹنا کہ ہاتھ باہر نہ نکل سکے، اور احبتاء کا معنی حدیث میں مذکور ہے۔
یہ بہت ہی بے شرمی کی بات ہے کہ آدمی برہنہ ہو کر کھلے آسمان کے نیچے آئے۔
اگر کوئی فردِ بشر موجود نہیں تو انسان کو الله تعالیٰ سے شرمانا چاہیے۔
الحكم: إسناده حسن
← پچھلی حدیث (1409) باب پر واپس اگلی حدیث (1411) →