خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، مَالِكٌ ، عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: "حَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَإِذَا سَجَدَ، وَضَعَهَا، وَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوقتاده انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امامہ بنت زینب کو نماز میں اٹھا لیا، جب آپ سجدہ کرتے تو اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو اس کو اٹھا لیتے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1398]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1400] »
اس حدیث کے حوالے کے لئے مذکورہ بالا مصادر ملاحظہ فرمائیں۔ نیز دیکھئے: [ابن حبان 109، 110] ، [الحميدي 426]
وضاحت
(تشریح احادیث 1396 سے 1398)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس طرح کا تھوڑا بہت عمل نماز کو خراب نہیں کرتا، اس طرح اگر کوئی نمازی بچے کو گود میں اٹھا لے اور رکوع سجدے کے وقت اتار دے تو اس سے نماز میں کوئی خلل نہیں آئے گا۔
نبی رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو سید البشر اتقی للہ واعلم باللہ ہوتے ہوئے ایسا کر کے بچے والی ماؤں کے لئے آسانی فرما دی۔
اللہ تعالیٰ ان کی ذاتِ مقدس پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے۔
آمین۔
الحكم: إسناده صحيح