بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1363 — رکوع و سجود میں قرأت کرنے کی ممانعت کا بیان
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل رکوع و سجود میں قرأت کرنے کی ممانعت کا بیان حدیث 1363
حدیث نمبر: 1363 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ، فَأَمَّا الرُّكُوعُ، فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ، وَأَمَّا السُّجُودُ، فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمانے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں رکوع اور سجدے کی حالت میں قرأت کروں، پس رکوع جو ہے اس میں تم رب کی تعظیم کرو، اور سجدوں میں خوب دل لگا کر دعا کرو، ممکن ہے (وہ دعا) قبول کر لی جائے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1363]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1365] »
اس حدیث کی تخریج اوپر گذر چکی ہے۔ یہ سند بھی صحیح ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 1361 سے 1363)
رکوع اور سجود میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيْم» اور «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَيٰ» کہنے کے بارے میں تفصیل گذر چکی ہے۔
ان احادیث سے ثابت ہوا سجدے میں دعا بھی کرنی چاہیے کیونکہ سجدے میں دعا کی قبولیت کا امکان ہوتا ہے اس لئے ماثور یا غیر ماثور کوئی بھی دعا کی جا سکتی ہے، خواہ سجدہ فرض نماز کا ہو یا نفلی نماز کا، امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے سجدے میں صرف ماثورہ دعائیں پڑھنے کو ترجیح دی ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (1362) باب پر واپس اگلی حدیث (1364) →