بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1263 — کوئی کسی نماز سے سوتا رہ جائے یا بھول جائے تو کیا کرے؟
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل کوئی کسی نماز سے سوتا رہ جائے یا بھول جائے تو کیا کرے؟ حدیث 1263
حدیث نمبر: 1263 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي سورة طه آية 14".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:کوئی شخص کسی نماز کو بھول جائے یا سوتا رہ جائے تو جس وقت یاد آئے فوراً وہ نماز ادا کر لے، الله تعالیٰ فرماتا ہے: اور میری یاد کے لئے نماز قائم رکھ۔ [طه 14/20 ] [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1263]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف سعيد بن عامر متأخر السماع من سعيد بن أبي عروبة. ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1265] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 597] ، [مسلم 684] ، [مسند أبى يعلی 2854] ، لیکن مذکورہ بالا سند سعید بن عامر کی وجہ سے ضعیف ہے، دوسرے راوی سعید ابن ابی عروبہ ہیں۔ واللہ اعلم۔
وضاحت
(تشریح حدیث 1262)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر آدمی کبھی کبھار سوتا رہ جائے تو جب آنکھ کھلے فوراً نماز پڑھ لے، اسی طرح اگر بھول جائے تو جیسے ہی یاد آئے وہ نماز پڑھ لے۔
واضح رہے کہ یہ حکم صرف فرض نماز کے لئے ہے۔
فجر کی سنتوں اور وتر کے علاوہ کسی نفلی نماز کی قضا ضروری نہیں۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده ضعيف سعيد بن عامر متأخر السماع من سعيد بن أبي عروبة. ولكن الحديث متفق عليه
← پچھلی حدیث (1262) باب پر واپس اگلی حدیث (1264) →