بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 119 — ایسا فتوی دینے سے احتیاط برتنے کا بیان جس کے بارے میں قرآن و حدیث سے دلیل نہ ہو
کتب سنن دارمی مقدمہ ایسا فتوی دینے سے احتیاط برتنے کا بیان جس کے بارے میں قرآن و حدیث سے دلیل نہ ہو حدیث 119
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، أَبُو سَلَمَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْأَمْرِ يَحْدُثُ لَيْسَ فِي كِتَابٍ وَلَا سُنَّةٍ، فَقَالَ: "يَنْظُرُ فِيهِ الْعَابِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
یحییٰ بن حمزہ نے کہا کہ سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایسے امر کے بارے میں دریافت کیا گیا جو قرآن و حدیث میں نہ ہو، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس میں عبادت گزار مؤمنین غور کریں گے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 119]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو مرسل، [مكتبه الشامله نمبر: 119] »
اگرچہ یہ مرسل روایت ہے لیکن سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مراسيل أبى داؤد 457-458] ، [المعجم الكبير 353] ، [جامع بيان العلم 1810] ، [إبانه 293] ، [فتح الباري 266/13]
وضاحت
(تشریح احادیث 115 سے 119)
یہ روایت اجماع کی دلیل ہے۔
الحكم: إسناده صحيح وهو مرسل
← پچھلی حدیث (118) باب پر واپس اگلی حدیث (120) →