عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، ذَرٍّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَابْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَحَدَنَا يَجِدُ فِي نَفْسِهِ يُعَرِّضُ بِالشَّيْءِ لَأَنْ يَكُونَ حُمَمَةً أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ , فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ كَيْدَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ" , قال ابْنُ قُدَامَةَ: رَدَّ أَمْرَهُ مَكَانَ رَدَّ كَيْدَهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کسی کے دل میں ایسا وسوسہ پیدا ہوتا ہے، کہ اس کو بیان کرنے سے راکھ ہو جانا یا جل کر کوئلہ ہو جانا بہتر معلوم ہوتا ہے، آپ نے فرمایا: اللہ اکبر، اللہ اکبر، شکر ہے اس اللہ کا جس نے شیطان کے مکر کو وسوسہ بنا دیا (اور وسوسہ مومن کو نقصان نہیں پہنچاتا)۔ ابن قدامہ نے اپنی روایت میں «رد كيده» کی جگہ «رد أمره» کہا ہے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5112]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5788)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/232، 340) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (73)
الحكم: صحيح