عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عِكْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ ، أَبُو زُمَيْلٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ، قَالَ: وحَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ:" مَا شَيْءٌ أَجِدُهُ فِي صَدْرِي؟ قَالَ: قُلْتُ؟ وَاللَّهِ مَا أَتَكَلَّمُ بِهِ، قَالَ: فَقَالَ لِي: أَشَيْءٌ مِنْ شَكٍّ؟ , قَالَ: وَضَحِكَ، قَالَ: مَا نَجَا مِنْ ذَلِكَ أَحَدٌ، قَالَ: حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَإِنْ كُنْتَ فِي شَكٍّ مِمَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ فَاسْأَلِ الَّذِينَ يَقْرَءُونَ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكَ سورة يونس آية 94 , قال: فَقَالَ لي: إِذَا وَجَدْتَ فِي نَفْسِكَ شَيْئًا، فَقُلْ: هُوَ الْأَوَّلُ، وَالْآخِرُ، وَالظَّاهِرُ، وَالْبَاطِنُ، وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوزمیل کہتے ہیں میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: میرے دل میں کیسی کھٹک ہو رہی ہے؟ انہوں نے کہا: کیا ہوا؟ میں نے کہا: قسم اللہ کی! میں اس کے متعلق کچھ نہ کہوں گا، تو انہوں نے مجھ سے کہا: کیا کوئی شک کی چیز ہے، یہ کہہ کر ہنسے اور بولے: اس سے تو کوئی نہیں بچا ہے، یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی «فإن كنت في شك مما أنزلنا إليك فاسأل الذين يقرءون الكتاب» ”اگر تجھے اس کلام میں شک ہے جو ہم نے تجھ پر اتارا ہے تو ان لوگوں سے پوچھ لے جو تم سے پہلے اتاری ہوئی کتاب (توراۃ و انجیل) پڑھتے ہیں“ (یونس: ۹۴)، پھر انہوں نے مجھ سے کہا: جب تم اپنے دل میں اس قسم کا وسوسہ پاؤ تو «هو الأول والآخر والظاهر والباطن وهو بكل شىء عليم» ”وہی اول ہے اور وہی آخر وہی ظاہر ہے اور وہی باطن اور وہ ہر چیز کو بخوبی جاننے والا ہے۔ (الحدید: ۳)، پڑھ لیا کرو۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5110]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5677) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني
حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن الإسناد