بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: آدمی نیا چاند دیکھے تو کیا کہے؟
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل باب: آدمی نیا چاند دیکھے تو کیا کہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 5092 سنن ابو داؤد
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، أَبَانُ ، قَتَادَةُ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّهُ بَلَغَهُ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ، قَالَ:" هِلَالُ خَيْرٍ، وَرُشْدٍ هِلَالُ خَيْرٍ، وَرُشْدٍ هِلَالُ خَيْرٍ، وَرُشْدٍ آمَنْتُ بِالَّذِي خَلَقَكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ذَهَبَ بِشَهْرِ كَذَا، وَجَاءَ بِشَهْرِ كَذَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
قتادہ کہتے ہیں کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نیا چاند دیکھتے تو فرماتے: «هلال خير ورشد هلال خير ورشد هلال خير ورشد آمنت بالذي خلقك» یہ خیر و رشد کا چاند ہے، یہ خیر و رشد کا چاند ہے، یہ خیر و رشد کا چاند ہے، میں ایمان لایا اس پر جس نے تجھے پیدا کیا ہے یہ تین مرتبہ فرماتے، پھر فرماتے: شکر ہے، اس اللہ کا جو فلاں مہینہ لے گیا اور فلاں مہینہ لے آیا۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5092]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابو داود (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (سند میں قتادہ تابعی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان انقطاع ہے، معلوم نہیں کہ تابعی کو ساقط کیا ہے یا صحابی کو، جب کہ قتادہ مدلس بھی ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل،وروي متصلاً ولا يصح كما قال الإمام أبو داود رحمه اللّٰه في كتاب المراسيل (527)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 176
الحكم: ضعيف الإسناد
حدیث نمبر: 5093 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، زَيْدَ بْنَ حُباب ، أَبِي هِلَالٍ ، قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ حُباب أَخْبَرَهُمْ، عَنْ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ قَتَادَةَ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ صَرَفَ وَجْهَهُ عَنْهُ" , قَالَ أَبُو دَاوُدَ: لَيْسَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْباب حَدِيثٌ مُسْنَدٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
قتادہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نیا چاند دیکھتے تو آپ اس سے اپنا منہ پھیر لیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس باب میں کوئی صحیح مسند حدیث نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5093]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (یہ روایت مرسل ہے، نیز قتادہ مدلس ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 176
الحكم: ضعيف الإسناد