مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، أَبَانُ ، قَتَادَةُ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّهُ بَلَغَهُ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ، قَالَ:" هِلَالُ خَيْرٍ، وَرُشْدٍ هِلَالُ خَيْرٍ، وَرُشْدٍ هِلَالُ خَيْرٍ، وَرُشْدٍ آمَنْتُ بِالَّذِي خَلَقَكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ذَهَبَ بِشَهْرِ كَذَا، وَجَاءَ بِشَهْرِ كَذَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
قتادہ کہتے ہیں کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نیا چاند دیکھتے تو فرماتے: «هلال خير ورشد هلال خير ورشد هلال خير ورشد آمنت بالذي خلقك» ”یہ خیر و رشد کا چاند ہے، یہ خیر و رشد کا چاند ہے، یہ خیر و رشد کا چاند ہے، میں ایمان لایا اس پر جس نے تجھے پیدا کیا ہے“ یہ تین مرتبہ فرماتے، پھر فرماتے: شکر ہے، اس اللہ کا جو فلاں مہینہ لے گیا اور فلاں مہینہ لے آیا۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5092]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابو داود (ضعیف الإسناد)» (سند میں قتادہ تابعی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان انقطاع ہے، معلوم نہیں کہ تابعی کو ساقط کیا ہے یا صحابی کو، جب کہ قتادہ مدلس بھی ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل،وروي متصلاً ولا يصح كما قال الإمام أبو داود رحمه اللّٰه في كتاب المراسيل (527)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 176
الحكم: ضعيف الإسناد