بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سوتے وقت کیا دعا پڑھے؟
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل باب: سوتے وقت کیا دعا پڑھے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 5045 سنن ابو داؤد
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، أَبَانُ ، عَاصِمٌ ، مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، سَوَاءٍ ، حَفْصَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَوَاءٍ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْقُدَ، وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ ثَلَاثَ مِرَارٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا داہنا ہاتھ اپنے گال کے نیچے رکھتے، پھر تین مرتبہ «اللهم قني عذابك يوم تبعث عبادك» اے اللہ جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچا لے کہتے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5045]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15797)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/287) (صحیح)» ‏‏‏‏ (لیکن تین بار لفظ صحیح نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني
صحيح دون قوله ثلاث مرار
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2402)
الحكم: صحيح دون قوله ثلاث مرار
حدیث نمبر: 5046 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، الْمُعْتَمِر ، مَنْصُورًا ، سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِر، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورًا يُحَدِّثُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، قَالَ: قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَتَيْتَ مَضْجَعَكَ، فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ، وَقُلْ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَهْبَةً وَرَغْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، قَالَ: فَإِنْ مِتَّ مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ، وَاجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَقُولُ , قَالَ الْبَرَاءُ: فَقُلْتُ: أَسْتَذْكِرُهُنَّ، فَقُلْتُ: وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ , قال: لَا، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تم اپنی خواب گاہ میں آؤ (یعنی سونے چلو) تو وضو کرو جیسے اپنے نماز کے لیے وضو کرتے ہو، پھر اپنی داہنی کروٹ پر لیٹو، اور کہو «اللهم أسلمت وجهي إليك وفوضت أمري إليك وألجأت ظهري إليك رهبة ورغبة إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت وبنبيك الذي أرسلت» اے اللہ میں نے اپنی ذات کو تیری تابعداری میں دے دیا، میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا، میں نے امید وبیم کے ساتھ تیری ذات پر بھروسہ کیا، تجھ سے بھاگ کر تیرے سوا کہیں اور جائے پناہ نہیں، میں ایمان لایا اس کتاب پر جو تو نے نازل فرمائی ہے، اور میں ایمان لایا تیرے اس نبی پر جسے تو نے بھیجا ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم (یہ دعا پڑھ کر) انتقال کر گئے تو فطرت (یعنی دین اسلام) پر انتقال ہوا اور اس دعا کو اپنی دیگر دعاؤں کے آخر میں پڑھو براء کہتے ہیں: اس پر میں نے کہا کہ میں انہیں یاد کر لوں گا، تو میں نے (یاد کرتے ہوئے) کہا «وبرسولك الذي أرسلت» تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہیں بلکہ «وبنبيك الذي أرسلت» (جیسا دعا میں ہے ویسے ہی کہو)۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5046]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 75 (247)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 17 (2710)، سنن الترمذی/الدعوات 117 (3574)، (تحفة الأشراف: 1763)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدعاء 15 (3876)، مسند احمد (4/290، 292، 293، 296، 300)، سنن الدارمی/الاستئذان 51 (2725) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (6311) صحيح مسلم (2710)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 5047 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ ، سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ ، الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، قَالَ: قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ وَأَنْتَ طَاهِرٌ، فَتَوَسَّدْ يَمِينَكَ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تم پاک و صاف (باوضو) ہو کر اپنے بستر پر (سونے کے لیے) آؤ تو اپنے داہنے ہاتھ کا تکیہ بناؤ پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5047]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1763) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
انظر الحديث السابق (5046)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 5048 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْغَزَّالُ ، مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْغَزَّالُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ , وَمَنْصُورٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ الْبَرَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ أَحَدُهُمَا: إِذَا أَتَيْتَ فِرَاشَكَ طَاهِرًا، وَقَالَ الْآخَرُ: تَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، وَسَاقَ مَعْنَى مُعْتَمِرٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی براء رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مرفوعاً مروی ہے، سفیان ثوری کہتے ہیں: ایک راوی نے «إذا أتيت فراشك طاهرا» جب تم باوضو اپنے بستر پر آؤ کہا اور دوسرے نے «توضأ وضوءك للصلاة» تم جب نماز جیسا وضو کر لو کہا اور آگے راوی نے معتمر جیسی روایت بیان کی۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5048]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (5046)، (تحفة الأشراف: 1763) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
انظر الحديث السابق (5046)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 5049 سنن ابو داؤد
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، رِبْعِيٍّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ، قَالَ: اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَأَمُوتُ، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا، وَإِلَيْهِ النُّشُورُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سونے کے وقت فرماتے: «اللهم باسمك أحيا وأموت» اے اللہ میں تیرے ہی نام پر جیتا اور مرتا ہوں اور جب بیدار ہوتے تو فرماتے «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور» شکر ہے اللہ کا جس نے ہمیں زندگی بخشی (ایک طرح سے) موت طاری کر دینے کے بعد اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5049]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الدعوات 7 (6312)، التوحید 13 (7394)، سنن الترمذی/الدعوات 28 (3417)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 16 (3880)، (تحفة الأشراف: 3308)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/385، 387، 397، 399، 407)، سنن الدارمی/الاستئذان 53 (2728) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (6312)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 5050 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، زُهَيْرٌ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ، فَلْيَنْفُضْ فِرَاشَهُ بِدَاخِلَةِ إِزَارِهِ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا خَلَفَهُ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيَضْطَجِعْ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر سونے کے لیے آئے تو اپنے ازار کے کونے سے اسے جھاڑے کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ اس کی جگہ اس کی عدم موجودگی میں کون آ بسا ہے، پھر وہ اپنے داہنے پہلو پر لیٹے، پھر کہے «باسمك ربي وضعت جنبي وبك أرفعه إن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين» تیرے نام پر میں اپنا پہلو ڈال کر لیٹتا ہوں اور تیرے ہی نام سے اسے اٹھاتا ہوں، اگر تو میری جان کو روک لے تو تو اس پر رحم فرما اور اگر چھوڑ دے تو اس کی اسی طرح حفاظت فرما جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5050]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الدعوات 13 (6320)، والتوحید13 (7393)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 17 (2714)، (تحفة الأشراف: 14306)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 20 (3401)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 15 (3874)، مسند احمد (2/422، 432)، سنن الدارمی/الاستئذان 51 (2726) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (6320) صحيح مسلم (2714)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 5051 سنن ابو داؤد
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، وُهَيْبٌ ، وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، خَالِدٍ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ. ح وحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ نَحْوَهُ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ" إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، مُنَزِّلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ" , زَادَ وَهْبٌ فِي حَدِيثِهِ: اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ، وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اپنے بستر پر سونے کے لیے جاتے تو فرماتے: «اللهم رب السموات ورب الأرض ورب كل شىء فالق الحب والنوى منزل التوراة والإنجيل والقرآن أعوذ بك من شر كل ذي شر أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شىء وأنت الآخر فليس بعدك شىء وأنت الظاهر فليس فوقك شىء وأنت الباطن فليس دونك شىء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» اے اللہ! آسمانوں و زمین کے مالک! اے ہر چیز کے پالنہار! اے دانے اگانے والے! اے بیج سے درخت پیدا کرنے والے! اے توراۃ، انجیل اور قرآن اتارنے والے! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، ہر شر والے کے شر سے جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے، تو سب سے پہلے ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں، تو سب سے آخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں، تو سب سے ظاہر (اوپر) ہے، تجھ سے اوپر کوئی نہیں، تو چھپا ہوا ہے، تجھ سے زیادہ چھپا ہوا کوئی نہیں وہب نے اپنی حدیث میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ: تو میرا قرض اتار دے اور تنگ دستی سے نکال کر مجھے مالدار بنا دے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5051]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الذکر والدعاء 17 (2713)، سنن الترمذی/الدعوات 19 (3400)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 15 (3873)، مسند احمد (2/404)، (تحفة الأشراف: 12631) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (2713)
مشكوة المصابيح (2408)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 5052 سنن ابو داؤد
الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، الْأَحْوَصُ يَعْنِي ابْنَ جَوَّابٍ ، عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، أَبِي إِسْحَاق ، الْحَارِثِ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ يَعْنِي ابْنَ جَوَّابٍ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَحِمَهُ اللَّهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ مَضْجَعِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ تَكْشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَأْثَمَ، اللَّهُمَّ لَا يُهْزَمُ جُنْدُكَ وَلَا يُخْلَفُ وَعْدُكَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی خواب گاہ میں جاتے وقت یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بوجهك الكريم وكلماتك التامة من شر ما أنت آخذ بناصيته اللهم أنت تكشف المغرم والمأثم اللهم لا يهزم جندك ولا يخلف وعدك ولا ينفع ذا الجد منك الجد سبحانك وبحمدك» اے اللہ! میں تیری بزرگ ذات اور تیرے مکمل کلموں کے ذریعہ اس شر سے پناہ مانگتا ہوں جو تیرے قبضے میں ہے، اے اللہ تو ہی قرض اتارتا، اور گناہوں کو معاف فرماتا ہے، اے اللہ! تیرے لشکر کو شکست نہیں دی جا سکتی، تیرا وعدہ ٹل نہیں سکتا، مالدار کی مالداری تیرے سامنے کام نہ آئے گی، پاک ہے تیری ذات، میں تیری حمد و ثنا بیان کرتا ہوں۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5052]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10038) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ابواسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
أبوإسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 175
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 5053 سنن ابو داؤد
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھتے «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا فكم ممن لا كافي له ولا مئوي» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو کھلایا اور پلایا، دشمن کے شر سے بچایا، ہم کو پناہ دی، کتنے بندے تو ایسے ہیں جنہیں نہ کوئی بچانے والا ہے، اور نہ کوئی پناہ دینے والا ہے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5053]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الذکر والدعاء 17 (2715)، سنن الترمذی/الدعوات 16 (3396)، (تحفة الأشراف: 311)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/153، 167، 235) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (2715)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 5054 سنن ابو داؤد
جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ ، يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، ثَوْرٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، أَبِي الْأَزْهَرِ الْأَنْمَارِيِّ
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي الْأَزْهَرِ الْأَنْمَارِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ وَضَعْتُ جَنْبِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَأَخْسِئْ شَيْطَانِي وَفُكَّ رِهَانِي وَاجْعَلْنِي فِي النَّدِيِّ الْأَعْلَى" , قال أبو داود: رَوَاهُ أَبُو هَمَّامٍ الْأَهْوَازِيُّ، عَنْ ثَوْرٍ، قَالَ أَبُو زُهَيْرٍ الْأَنْمَارِيُّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوالازہر انماری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات میں جب اپنی خواب گاہ پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: «بسم الله وضعت جنبي اللهم اغفر لي ذنبي وأخسئ شيطاني وفك رهاني واجعلني في الندي الأعلى» اللہ کے نام پر میں نے اپنے پہلو کو ڈال دیا (یعنی لیٹ گیا) اے اللہ میرے گناہ بخش دے، میرے شیطان کو دھتکار دے، مجھے گروی سے آزاد کر دے اور مجھے اونچی مجلس میں کر دے، (یعنی ملائکہ، انبیاء و صلحاء کی مجلس میں)۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5054]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11859) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (2409)
ثور ھو ابن يزيد
الحكم: صحيح