أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، رِبْعِيٍّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ، قَالَ: اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَأَمُوتُ، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا، وَإِلَيْهِ النُّشُورُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سونے کے وقت فرماتے: «اللهم باسمك أحيا وأموت» ”اے اللہ میں تیرے ہی نام پر جیتا اور مرتا ہوں“ اور جب بیدار ہوتے تو فرماتے «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور» ”شکر ہے اللہ کا جس نے ہمیں زندگی بخشی (ایک طرح سے) موت طاری کر دینے کے بعد اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے“۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5049]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الدعوات 7 (6312)، التوحید 13 (7394)، سنن الترمذی/الدعوات 28 (3417)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 16 (3880)، (تحفة الأشراف: 3308)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/385، 387، 397، 399، 407)، سنن الدارمی/الاستئذان 53 (2728) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (6312)
الحكم: صحيح