بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: محمد نام اور ابوالقاسم کنیت جمع کرنے کی اجازت کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: آداب و اخلاق کا بیان باب: محمد نام اور ابوالقاسم کنیت جمع کرنے کی اجازت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 4967 سنن ابو داؤد
عُثْمَانُ ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، فِطْرٍ ، مُنْذِرٍ ، مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَلِيٌّ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ , وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ مُنْذِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَحِمَهُ اللَّهُ" قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ وُلِدَ لِي مِنْ بَعْدِكَ: وَلَدٌ أُسَمِّيهِ بِاسْمِكَ، وَأُكَنِّيهِ بِكُنْيَتِكَ , قال: نَعَمْ" , وَلَمْ يَقُلْ أَبُو بَكْرٍ، قُلْتُ: قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَام لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ علی علیہ السلام نے کہا: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ کے بعد میرے بیٹا پیدا ہو تو میں اس کا نام اور اس کی کنیت آپ کے نام اور آپ کی کنیت پر رکھوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4967]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الأدب 68 (2843)، (تحفة الأشراف: 10267)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/95) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4772)
أخرجه الترمذي (2843 وسنده حسن)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4968 سنن ابو داؤد
النُّفَيْلِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَجَبِيُّ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَجَبِيُّ، عَنْ جَدَّتِهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ وَلَدْتُ غُلَامًا، فَسَمَّيْتُهُ مُحَمَّدًا، وَكَنَّيْتُهُ: أَبَا الْقَاسِمِ، فَذُكِرَ لِي أَنَّكَ تَكْرَهُ ذَلِكَ , فَقَالَ: مَا الَّذِي أَحَلَّ اسْمِي، وَحَرَّمَ كُنْيَتِي، أَوْ مَا الَّذِي حَرَّمَ كُنْيَتِي، وَأَحَلَّ اسْمِي".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: اللہ کے رسول! میرے ایک لڑکا پیدا ہوا ہے، میں نے اس کا نام محمد اور اس کی کنیت ابوالقاسم رکھ دی ہے، تو مجھے بتایا گیا کہ آپ اسے ناپسند کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: کیا سبب ہے کہ میرا نام رکھنا درست ہے اور کنیت رکھنا نا درست یا یوں فرمایا: کیا سبب ہے کہ میری کنیت رکھنا نا درست ہے اور نام رکھنا درست؟ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4968]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17856)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/135، 209) (ضعیف)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس سلسلہ میں علماء کا اختلاف ہے، بعض لوگوں نے کہا کہ ممانعت کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات مبارکہ تک ہے، اس کے بعد اگر کوئی آپ کا نام مع کنیت رکھتا ہے تو کچھ قباحت نہیں، بعض نے کہا کہ نام اور کنیت ایک ساتھ رکھنا منع ہے، کچھ کا کہنا ہے کہ ممانعت کا تعلق صرف کنیت سے ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن عمران الحجبي مستور (تق: 6199)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 173
الحكم: ضعيف