بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: راستوں میں بیٹھنے کے حقوق و آداب کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: آداب و اخلاق کا بیان باب: راستوں میں بیٹھنے کے حقوق و آداب کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 4815 سنن ابو داؤد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا بُدَّ لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ أَبَيْتُمْ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ، قَالُوا: وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: غَضُّ الْبَصَرِ، وَكَفُّ الْأَذَى، وَرَدُّ السَّلَامِ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے بچو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں اپنی مجالس سے مفر نہیں ہم ان میں (ضروری امور پر) گفتگو کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: پھر اگر تم نہیں مانتے تو راستے کا حق ادا کرو لوگوں نے عرض کیا: راستے کا حق کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: نگاہ نیچی رکھنا، ایذاء نہ دینا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4815]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/المظالم 22 (2465)، الاستئذان 2 (6229)، صحیح مسلم/اللباس 32 (2121)، (تحفة الأشراف: 4164)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/36، 47) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2465) صحيح مسلم (2121)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4816 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: وَإِرْشَادُ السَّبِيلِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مرفوعاً مروی ہے اس میں یہ بھی ہے آپ نے فرمایا: اور (بھولے بھٹکوں کو) راستہ بتانا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4816]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12975) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4641، 4661)
الحكم: حسن صحيح
حدیث نمبر: 4817 سنن ابو داؤد
الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى النَّيْسَابُورِيُّ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، إِسْحَاق بْنِ سُوَيْدٍ ، ابْنِ حُجَيْرٍ الْعَدَوِيِّ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى النَّيْسَابُورِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ ابْنِ حُجَيْرٍ الْعَدَوِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: وَتُغِيثُوا الْمَلْهُوفَ، وَتَهْدُوا الضَّالَّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابن حجیر عدوی کہتے ہیں کہ میں نے اس قصے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بھی روایت کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: اور تم آفت زدہ لوگوں کی مدد کرو اور بھٹکے ہووں کو راستہ بتاؤ۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4817]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10673) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ابن حجير العدوي مستور (تق : 8461) و روي له الضياء المقدسي في المختارة
وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 167
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4818 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بِنِ الطَّبَّاعِ ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مَرْوَانُ ، ابْنُ عِيسَى ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بِنِ الطَّبَّاعِ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، قَالَ ابْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً، فَقَالَ لَهَا: يَا أُمَّ فُلَانٍ، اجْلِسِي فِي أَيِّ نَوَاحِي السِّكَكِ شِئْتِ، حَتَّى أَجْلِسَ إِلَيْكِ، قَالَ: فَجَلَسَتْ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا"، لَمْ يَذْكُرُ ابْنُ عِيسَى: حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا. وقَالَ كَثِيرٌ:عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی، اور بولی: اللہ کے رسول! مجھے آپ سے ایک ضرورت ہے، آپ نے اس سے فرمایا: اے فلاں کی ماں! جہاں چاہو گلی کے کسی کونے میں بیٹھ جاؤ، یہاں تک کہ میں تمہارے پاس آ کر ملوں چنانچہ وہ بیٹھ گئی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس سے آ کر ملے، یہاں تک کہ اس نے آپ سے اپنی ضرورت کی بات کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4818]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 771)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/214) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
حميد عنعن لكنه كان يدلس عن ثابت البناني عن أنس رضي الله عنه وثابت البناني ثقة
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4819 سنن ابو داؤد
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَ فِي عَقْلِهَا شَيْءٌ، بِمَعْنَاهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت تھی جس کی عقل میں کچھ فتور تھا پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4819]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/ الفضائل 23 (2326)، (تحفة الأشراف: 326)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/285) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2326)
الحكم: صحيح