عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ ، ضَمْرَةُ ، السَّيْبَانِيِّ ، أَبِي سُكَيْنَةَ رَجُلٌ مِنَ الْمُحَرَّرِينَ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنْ السَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي سُكَيْنَةَ رَجُلٌ مِنَ الْمُحَرَّرِينَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" دَعُوا الْحَبَشَةَ مَا وَدَعُوكُمْ وَاتْرُكُوا التُّرْكَ مَا تَرَكُوكُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”حبشہ کے کافروں کو اس وقت تک چھوڑے رہو جب تک کہ وہ تم سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں، اور ترکوں کو بھی چھوڑے رہو جب تک کہ وہ تم سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4302]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/الجہاد 42 (3178)، (تحفة الأشراف: 15689) (حسن)»
وضاحت
۱؎: یہ ایک جنگی تدبیر تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسلمانوں کو بتلائی کہ یہ کافر اقوام جب تک مسلمانوں کے خلاف اقدام نہ کریں، مسلمانوں کو بھی ان سے جنگ میں ابتداء نہ کرنی چاہئے۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
مشكوة المصابيح (5430)
أخرجه النسائي (3178 وسنده حسن)
الحكم: حسن