بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جنہوں نے اس حدیث میں محنت کرانے کا ذکر نہیں کیا ان کی دلیل کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل باب: جنہوں نے اس حدیث میں محنت کرانے کا ذکر نہیں کیا ان کی دلیل کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 9
حدیث نمبر: 3940 سنن ابو داؤد
الْقَعْنَبِيُّ ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ أُقِيمَ عَلَيْهِ قِيمَةُ الْعَدْلِ، فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ وَأُعْتِقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے رویت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (مشترک) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس غلام کی واجبی قیمت لگا کر ہر ایک شریک کو اس کے حصہ کے مطابق ادا کرے گا اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو جتنا آزاد ہوا ہے اتنا ہی حصہ آزاد رہے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِتْق/حدیث: 3940]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الشرکة 5 (2491)، 14 (2503)، العتق 4 (2522)، صحیح مسلم/العتق 1 (1501)، الأیمان 12 (1501)، سنن النسائی/البیوع 104 (4703)، سنن ابن ماجہ/العتق 7 (2528)، (تحفة الأشراف: 8328)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العتق 1 (1)، مسند احمد (1/56) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2522) صحيح مسلم (1501)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3941 سنن ابو داؤد
مُؤَمَّلٌ ، إِسْمَاعِيل ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ أَيُّوبَ،عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: وَكَانَ نَافِعٌ رُبَّمَا، قَالَ: فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی اسی مفہوم کی روایت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے۔ راوی کہتے ہیں: نافع نے کبھی «فقد عتق منه ما عتق» کی روایت کی ہے اور کبھی نہیں کی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِتْق/حدیث: 3941]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/ الشرکة 5 (2491)، العتق 4 (2524)، صحیح مسلم/ العتق 1 (1501)، سنن الترمذی/ الأحکام 14 (1346)، سنن النسائی/ البیوع 104 (4703)، (تحفة الأشراف: 7511)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/15) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1501)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3942 سنن ابو داؤد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَمَّادٌ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ أَيُّوبُ: فَلَا أَدْرِي هُوَ فِي الْحَدِيثِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ شَيْءٌ قَالَهُ نَافِعٌ وَإِلَّا عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے ایوب کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ «وإلا عتق منه ما عتق» نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث کا حصہ ہے یا نافع کا قول ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِتْق/حدیث: 3942]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 7511) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2524) صحيح مسلم (1501)
الحكم: صحيح الإسناد
حدیث نمبر: 3943 سنن ابو داؤد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا مِنْ مَمْلُوكٍ لَهُ، فَعَلَيْهِ عِتْقُهُ كُلِّهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ عَتَقَ نَصِيبَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (مشترک) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس پر اس کی مکمل آزادی لازم ہے اگر اس کے پاس اتنا مال ہو کہ اس کی قیمت کو پہنچ سکے، اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو صرف اس کا حصہ آزاد ہو گا (اور باقی شرکاء کو اختیار ہو گا چاہیں تو آزاد کریں اور چاہیں تو غلام رہنے دیں)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِتْق/حدیث: 3943]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8083)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العتق 4 (2523)، صحیح مسلم/الأیمان والنذور 12 (1501)، سنن الترمذی/الأحکام 14 (1346)، سنن النسائی/البیوع 104 (4703) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2523) صحيح مسلم (1501 بعد ح1667)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3944 سنن ابو داؤد
مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ،حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُوسَى.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ابراہیم بن موسیٰ کی روایت کے ہم معنی روایت مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِتْق/حدیث: 3944]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/العتق 4 (2525تعلیقًا) صحیح مسلم/ العتق 1 (1501)، سنن النسائی/ الکبری (4958)، (تحفة الأشراف: 8521) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2525) صحيح مسلم (1501)
مشكوة المصابيح (3397)
الحكم: صحيح بخاري (2525) صحيح مسلم (1501)
حدیث نمبر: 3945 سنن ابو داؤد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، جُوَيْرِيَةُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى مَالِكٍ وَلَمْ يَذْكُرْ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ انْتَهَى حَدِيثُهُ إِلَى وَأُعْتِقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ عَلَى مَعْنَاهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مالک کی روایت کے ہم معنی روایت مرفوعاً مروی ہے مگر اس میں: «وإلا فقد عتق منه ما عتق» کا ٹکڑا مذکور نہیں اور «وأعتق عليه العبد» کے ٹکڑے ہی پر روایت ختم ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِتْق/حدیث: 3945]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/ الشرکة 14 (2503)، (تحفة الأشراف: 7617) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: ابوہریرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی جملہ روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کرنے والا اگر مالدار ہے تو بقیہ حصہ کی قیمت اپنے شریک کو ادا کرے گا اور غلام آزاد ہو جائے گا، ورنہ غلام سے بقیہ رقم کے لیے بغیر دباؤ کے محنت کرائی جائے گی، اور جب یہ بھی ممکن نہ ہو تو بقیہ حصہ غلام ہی باقی رہے گا، اور اسی کے بقدر وہ اپنے دوسرے مالک کی خدمت کرتا رہے گا۔ اس مفہوم کے اعتبار سے روایات میں کوئی اختلاف نہیں ہے (فتح الباری)۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2503)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3946 سنن ابو داؤد
الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ عَتَقَ مِنْهُ مَا بَقِيَ فِي مَالِهِ إِذَا كَانَ لَهُ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (مشترک) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو جتنا حصہ باقی بچا ہے وہ بھی اسی کے مال سے آزاد ہو گا بشرطیکہ اس کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ غلام کی قیمت کو پہنچ سکے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِتْق/حدیث: 3946]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/ العتق 1 (1501)، سنن الترمذی/ الأحکام 14 (1347)، سنن النسائی/ الکبری (4944)، (تحفة الأشراف: 6935)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/34) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1501 بعد ح 1667)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3947 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، سُفْيَانُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ اثْنَيْنِ، فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا يُقَوَّمُ عَلَيْهِ قِيمَةً لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ ثُمَّ يُعْتَقُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو پھر ان میں سے ایک شخص اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر آزاد کرنے والا مالدار ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت ٹھہرائی جائے گی نہ کم نہ زیادہ پھر وہ غلام آزاد کر دیا جائے گا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِتْق/حدیث: 3947]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/ العتق 4 (2521)، صحیح مسلم/ العتق 1 (1501)، سنن النسائی/ الکبری (1541)، (تحفة الأشراف: 6788)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/11) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اور اپنا حصہ آزاد کرنے والا اس واجبی قیمت میں سے جتنا حصہ دوسرے شریک کا ہو گا اسے ادا کرے گا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2521) صحيح مسلم (1501 بعد ح 1667)
مشكوة المصابيح (3405)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3948 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، خَالِدٍ ، أَبِي بِشْرٍ الْعَنْبَرِيِّ ، ابْنِ التَّلِبِّ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ الْعَنْبَرِيِّ، عَنْ ابْنِ التَّلِبِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا"أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ، فَلَمْ يُضَمِّنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ أَحْمَدُ: إِنَّمَا هُوَ بِالتَّاءِ يَعْنِي التَّلِبَّ وَكَانَ شُعْبَةُ أَلْثَغُ لَمْ يُبَيِّنِ التَّاءَ مِنَ الثَّاءِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
تلب بن ثعلبہ تمیمی عنبری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے باقی قیمت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔ احمد کہتے ہیں: (صحابی کا نام) تلب تائے فوقانیہ سے ہے نہ کہ ثلب ثائے مثلثہ سے اور راوی حدیث شعبہ ہکلے تھے یعنی ان کی زبان سے تاء ادا نہیں ہوتی تھی وہ تاء کو ثاء کہتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِتْق/حدیث: 3948]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 0502) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ملقام بن تلب مجہول الحال ہیں، اور ان کی یہ روایت سابقہ صحیح روایات کے مخالف ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ملقام مستور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140
الحكم: ضعيف الإسناد