أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، سُفْيَانُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ اثْنَيْنِ، فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا يُقَوَّمُ عَلَيْهِ قِيمَةً لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ ثُمَّ يُعْتَقُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو پھر ان میں سے ایک شخص اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر آزاد کرنے والا مالدار ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت ٹھہرائی جائے گی نہ کم نہ زیادہ پھر وہ غلام آزاد کر دیا جائے گا ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِتْق/حدیث: 3947]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/ العتق 4 (2521)، صحیح مسلم/ العتق 1 (1501)، سنن النسائی/ الکبری (1541)، (تحفة الأشراف: 6788)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/11) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اور اپنا حصہ آزاد کرنے والا اس واجبی قیمت میں سے جتنا حصہ دوسرے شریک کا ہو گا اسے ادا کرے گا۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2521) صحيح مسلم (1501 بعد ح 1667)
مشكوة المصابيح (3405)
الحكم: صحيح