بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: برتن ڈھک کر رکھنے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل باب: برتن ڈھک کر رکھنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 3731 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَغْلِقْ بَابَكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا، وَأَطْفِ مِصْبَاحَكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، وَخَمِّرْ إِنَاءَكَ وَلَوْ بِعُودٍ تَعْرُضُهُ عَلَيْهِ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، وَأَوْكِ سِقَاءَكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا نام لے کر اپنے دروازے بند کرو کیونکہ شیطان بند دروازوں کو نہیں کھولتا، اللہ کا نام لے کر اپنے چراغ بجھاؤ، اللہ کا نام لے کر اپنے برتنوں کو ڈھانپو خواہ کسی لکڑی ہی سے ہو جسے تم اس پر چوڑائی میں رکھ دو، اور اللہ کا نام لے کر مشکیزے کا منہ باندھو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3731]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الأشربة 22 (5623)، صحیح مسلم/الأشربة 12 (2012)، (تحفة الأشراف: 2446)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب 74 (2857)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 16 (3410)، والأدب 46 (3771)، مسند احمد (3/355) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (5623) صحيح مسلم (2012)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3732 سنن ابو داؤد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، مَالِكٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْخَبَرِ وَلَيْسَ بِتَمَامِهِ، قَالَ: فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا غَلَقًا، وَلَا يَحُلُّ وِكَاءً، وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً، وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى النَّاسِ بَيْتَهُمْ أَوْ بُيُوتَهُمْ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن یہ پوری نہیں ہے، اس میں ہے کہ شیطان کسی بند دروازے کو نہیں کھولتا، نہ کسی بندھن کو کھولتا ہے اور نہ کسی برتن کے ڈھکنے کو، اور چوہیا لوگوں کا گھر جلا دیتی ہے، یا کہا ان کے گھروں کو جلا دیتی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3732]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/ الأشربة 12 (2012)، سنن الترمذی/ الأطعمة 15 (1812)، (تحفة الأشراف: 2934) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (2012)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3733 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، وَفُضَيْلُ بْنُ عَبْدُ الْوَهَّابِ السُّكَّرِيُّ ، حَمَّادٌ ، كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ ، عَطَاءٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَفُضَيْلُ بْنُ عَبْدُ الْوَهَّابِ السُّكَّرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَفَعَهُ، قَالَ:" وَاكْفِتُوا صِبْيَانَكُمْ عِنْدَ الْعِشَاءِ"، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: عِنْدَ الْمَسَاءِ فَإِنَّ لِلْجِنِّ انْتِشَارًا وَخَطْفَةً.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عشاء کے وقت اپنے بچوں کو اپنے پاس ہی رکھو (اور مسدد کی روایت میں ہے: شام کے وقت اپنے بچوں کو اپنے پاس رکھو) کیونکہ یہ جنوں کے پھیلنے اور (بچوں کو) اچک لینے کا وقت ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3733]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/ بدء الخلق 16 (3316)، الاستئذان 49 (6295)، سنن الترمذی/ الأدب 74 (2857)، (تحفة الأشراف: 2476)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/388) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (3316) صحيح مسلم (2012)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3734 سنن ابو داؤد
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَسْقَى، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَلَا نَسْقِيكَ نَبِيذًا؟، قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَشْتَدُّ، فَجَاءَ بِقَدَحٍ فِيهِ نَبِيذٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ أَنْ تَعْرِضَ عَلَيْهِ عُودًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: تَعْرِضُهُ عَلَيْهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے پانی طلب کیا تو قوم میں سے ایک شخص نے عرض کیا: کیا ہم آپ کو نبیذ نہ پلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں (کوئی مضائقہ نہیں) تو وہ نکلا اور دوڑ کر ایک پیالہ نبیذ لے آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو نے اسے ڈھک کیوں نہیں لیا؟ ایک لکڑی ہی سے سہی جو اس کے عرض (چوڑان) میں رکھ لیتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اصمعی نے کہا: «تعرضه عليه» یعنی تو اسے اس پر چوڑان میں رکھ لیتا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3734]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/ الأشرابة 12 (5606)، صحیح مسلم/ الأشربة 12 (2011)، (تحفة الأشراف: 2233) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (5605) صحيح مسلم (2011)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3735 سنن ابو داؤد
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنَ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنَ سَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَنّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيهِ وَسِلَّمَ كَانَ" يُسْتَعْذَبُ لَهُ الْمَاءُ مِنْ بُيُوتِ السُّقْيَا"، قِالَ قُتَيْبَةُ: عَيْنٌ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْمَدِينَةِ يَوْمَانِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے سقیا کے گھروں سے میٹھا پانی لایا جاتا۔ قتیبہ کہتے ہیں: سقیا ایک چشمہ ہے جس کی مسافت مدینہ سے دو دن کی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3735]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 17038)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/100، 108) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4284)
الحكم: إسناده صحيح