بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جو شخص قوم کا ساقی ہو وہ کب پئے؟
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل باب: جو شخص قوم کا ساقی ہو وہ کب پئے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 3725 سنن ابو داؤد
مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، شُعْبَةُ ، أَبِي الْمُخْتَارِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْمُخْتَارِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قوم کے ساقی کو سب سے اخیر میں پینا چاہیئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3725]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5184)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 55 (681)، سنن الترمذی/الأشربة 20 (1895)، سنن ابن ماجہ/ (3434) کلاہما عن أبي قتادة، مسند احمد (4/354، 382، 5/303) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
أخرجه أحمد (4/354 وسنده حسن) وله شاھد عند مسلم (681)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3726 سنن ابو داؤد
الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أُتِيَ بِلَبَن ٍ قَدْ شِيبَ بِمَاءٍ، وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ، فَشَرِبَ، ثُمَّ أَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ، وَقَالَ: الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس دودھ لایا گیا جس میں پانی ملایا گیا تھا، آپ کے دائیں ایک دیہاتی اور بائیں ابوبکر بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا پھر دیہاتی کو (پیالہ) دے دیا اور فرمایا: دائیں طرف والا زیادہ حقدار ہے پھر وہ جو اس کے دائیں ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3726]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الأشربة 14 (5612، 1893)، 18 (5619)، المساقاة 1 (2352)، الھبة 4 (2571)، صحیح مسلم/الأشربة 17 (2029)، سنن الترمذی/الأشربة 19 (1893)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 22 (3425)، (تحفة الأشراف: 1528)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صفة النبی 9 (17)، مسند احمد (3/110، 113، 197)، سنن الدارمی/الأشربة 18 (2162) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر چیز کی ابتدا داہنی طرف سے مسنون و مستحب ہے، گرچہ بائیں طرف والے لوگ معاشرہ کے معزز افراد ہوں، ہاں اگر کسی نے پانی مانگا تو وہ سب سے پہلے اس کا مستحق ہے، لیکن وہ اپنے دائیں طرف والوں کو دے دے، جیسا کہ حدیث نمبر (۳۷۲۹) میں آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (5619) صحيح مسلم (2029)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3727 سنن ابو داؤد
مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، هِشَامٌ ، أَبِي عِصَامٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي عِصَامٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا شَرِبَ تَنَفَّسَ ثَلَاثًا، وَقَالَ: هُوَ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ وَأَبْرَأُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیتے تو تین سانس میں پیتے اور فرماتے: یہ خوب پیاس کو مارنے والا، ہاضم اور صحت بخش ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3727]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الأشربة 16 (2028)، سنن الترمذی/الأشربة 13 (1884)، الشمائل (210)، (تحفة الأشراف: 1723)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/118، 119، 185، 211، 251) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (5631) صحيح مسلم (2028)
الحكم: صحيح