حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: كَانَ حُذَيْفَةُ بِالْمَدَائِنِ، فَاسْتَسْقَى، فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بِإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ، فَرَمَاهُ بِهِ، وَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَرْمِهِ بِهِ إِلَّا أَنِّي قَدْ نَهَيْتُهُ فَلَمْ يَنْتَهِ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ، وَالدِّيبَاجِ، وَعَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَقَالَ: هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے، آپ نے پانی طلب کیا تو ایک زمیندار چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا تو آپ نے اسے اسی پر پھینک دیا، اور کہا: میں نے اسے اس پر صرف اس لیے پھینکا ہے کہ میں اسے منع کر چکا ہوں لیکن یہ اس سے باز نہیں آیا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ریشم اور دیبا پہننے سے اور سونے، چاندی کے برتن میں پینے سے منع کیا ہے، اور فرمایا ہے: ”یہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3723]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأطمعة 29 (5426)، الأشربة 27 (5632)، 28 (5633)، اللباس25 (5831)، 27 (5837)، صحیح مسلم/اللباس 1 (2067)، سنن الترمذی/الأشربة 10 (1878)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی33 (5303)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 17 (3414)، (تحفة الأشراف: 3373)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/385، 390، 396، 398، 400، 408)، دی/ الأشربة 25 (2176) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (5632) صحيح مسلم (2067)
الحكم: صحيح