بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جب نبیذ میں تیزی پیدا ہو جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل باب: جب نبیذ میں تیزی پیدا ہو جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 3716 سنن ابو داؤد
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ، خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ، فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَهُ بِنَبِيذٍ صَنَعْتُهُ فِي دُبَّاءٍ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِهِ فَإِذَا هُوَ يَنِشُّ، فَقَالَ: اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطِ، فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھے معلوم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے رکھا کرتے ہیں تو میں اس نبیذ کے لیے جو میں نے ایک تمبی میں بنائی تھی آپ کے روزہ نہ رکھنے کا انتظار کرتا رہا پھر میں اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا وہ جوش مار رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے اس دیوار پر مار دو یہ تو اس شخص کا مشروب ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3716]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی/الأشربة 25 (5613)، 48 (5707)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 15 (3409)، (تحفة الأشراف: 12297)، (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
أخرجه النسائي (5213) ورواه ابن ماجه (3409) ورواه قزعة بن يحيي عن أبي ھريرة انظر سنن الدارقطني (4/252)
الحكم: صحيح