بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: رقبی کا (تفصیلی) بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: اجارے کے احکام و مسائل باب: رقبی کا (تفصیلی) بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 3558 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، هُشَيْمٌ ، دَاوُدُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا، وَالرُّقْبَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عمریٰ جس کو دیا گیا ہے اس کے گھر والوں کا ہو جاتا ہے، اور رقبیٰ ۱؎ (بھی) اسی کے اہل کا حق ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3558]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الأحکام 16 (1351)، سنن النسائی/العمری (3769)، سنن ابن ماجہ/الھبات 4 (2383)، (تحفة الأشراف: 2705)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الھبات 4 (1626)، مسند احمد (3/302، 303، 312) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی یہ کہنا کہ میں پہلے مرا تو یہ چیز تیری ہو گی اور تو پہلے مرا تو یہ میری ہو گی، ایسی شرط بیکار ہو جائے گی۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
مشكوة المصابيح (3014)
أبو الزبير صرح بالسماع في الرواية الطويلة وللحديث شواھد
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3559 سنن ابو داؤد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، مَعْقِلٍ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، طَاوُسٍ ، حُجْرٍ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَعْقِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ حُجْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا فَهُوَ لِمُعْمَرِهِ مَحْيَاهُ، وَمَمَاتَهُ وَلَا تُرْقِبُوا، فَمَنْ أَرْقَبَ شَيْئًا فَهُوَ سَبِيلُهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی چیز کسی کو عمر بھر کے لیے دی تو وہ چیز اسی کی ہو گئی جسے دی گئی اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی۔ اور فرمایا: رقبی نہ کرو جس نے رقبیٰ کیا تو وہ میراث کے طریق پر جاری ہو گی (یعنی اس کے ورثاء کی مانی جائے گی دینے والے کو واپس نہ ملے گی)۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3559]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی/الرقبی 1 (3746)، سنن ابن ماجہ/الہبات 3 (2381)، (تحفة الأشراف: 3700)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/250) (حسن صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
أخرجه ابن ماجه (2381 وسنده صحيح)
الحكم: حسن صحيح الإسناد
حدیث نمبر: 3560 سنن ابو داؤد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى ، عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ ، مُجَاهِدٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ:" الْعُمْرَى أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: هُوَ لَكَ مَا عِشْتَ، فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ: فَهُوَ لَهُ وَلِوَرَثَتِهِ، وَالرُّقْبَى هُوَ أَنْ يَقُولَ: الْإِنْسَانُ هُوَ لِلْآخِرِ مِنِّي وَمِنْكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مجاہد کہتے ہیں: عمری یہ ہے کہ کوئی شخص کسی سے کہے کہ یہ چیز تمہاری ہے جب تک تم زندہ رہے، تو جب اس نے ایسا کہہ دیا تو وہ چیز اس کی ہو گئی اور اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء کی ہو گی، اور رقبی یہ ہے کہ آدمی ایک چیز کسی کو دے کر کہے کہ ہم دونوں میں سے جو آخر میں زندہ رہے یہ چیز اس کی ہو گی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3560]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19271) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: میں پہلے مر گیا تو یہ تم پاس ہے اور رہے گی اور تم پہلے مر گئے اور میں بچا تو وہ چیز میرے پاس واپس آ جائے گی۔
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح الإسناد مقطوع