بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 3560 — باب: رقبی کا (تفصیلی) بیان۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: اجارے کے احکام و مسائل باب: رقبی کا (تفصیلی) بیان۔ حدیث 3560
حدیث نمبر: 3560 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى ، عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ ، مُجَاهِدٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ:" الْعُمْرَى أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: هُوَ لَكَ مَا عِشْتَ، فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ: فَهُوَ لَهُ وَلِوَرَثَتِهِ، وَالرُّقْبَى هُوَ أَنْ يَقُولَ: الْإِنْسَانُ هُوَ لِلْآخِرِ مِنِّي وَمِنْكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مجاہد کہتے ہیں: عمری یہ ہے کہ کوئی شخص کسی سے کہے کہ یہ چیز تمہاری ہے جب تک تم زندہ رہے، تو جب اس نے ایسا کہہ دیا تو وہ چیز اس کی ہو گئی اور اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء کی ہو گی، اور رقبی یہ ہے کہ آدمی ایک چیز کسی کو دے کر کہے کہ ہم دونوں میں سے جو آخر میں زندہ رہے یہ چیز اس کی ہو گی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3560]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19271) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: میں پہلے مر گیا تو یہ تم پاس ہے اور رہے گی اور تم پہلے مر گئے اور میں بچا تو وہ چیز میرے پاس واپس آ جائے گی۔
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح الإسناد مقطوع
← پچھلی حدیث (3559) باب پر واپس اگلی حدیث (3561) →