بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: خرید و فروخت میں فریب اور دھوکہ دھڑی منع ہے۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: اجارے کے احکام و مسائل باب: خرید و فروخت میں فریب اور دھوکہ دھڑی منع ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3452 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَرَّ بِرَجُلٍ يَبِيعُ طَعَامًا، فَسَأَلَهُ كَيْفَ تَبِيعُ؟، فَأَخْبَرَهُ، فَأُوحِيَ إِلَيْهِ أَنْ أَدْخِلْ يَدَكَ فِيهِ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ، فَإِذَا هُوَ مَبْلُولٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو غلہ بیچ رہا تھا آپ نے اس سے پوچھا: کیسے بیچتے ہو؟ تو اس نے آپ کو بتایا، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وحی کے ذریعہ حکم ملا کہ اس کے غلہ (کے ڈھیر) میں ہاتھ ڈال کر دیکھئیے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غلہ کے اندر ہاتھ ڈال کر دیکھا تو وہ اندر سے تر (گیلا) تھا تو آپ نے فرمایا: جو شخص دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے (یعنی دھوکہ دہی ہم مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہے)۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3452]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الإیمان 43 (102)، سنن الترمذی/البیوع 74 (1315)، سنن ابن ماجہ/التجارات 36 (2224)، (تحفة الأشراف: 14022)، وقد أخرجہ: حم(2/242) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
أخرجه ابن ماجه (2224 وسنده صحيح) وأصله عند مسلم (102)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3453 سنن ابو داؤد
الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، عَلِيٍّ ، يَحْيَى
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: كَانَ سُفْيَانُ يَكْرَهُ هَذَا التَّفْسِيرَ لَيْسَ مِنَّا، لَيْسَ مِثْلَنَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یحییٰ کہتے ہیں سفیان «ليس منا» کی تفسیر «ليس مثلنا» (ہماری طرح نہیں ہے) سے کرنا ناپسند کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3453]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18769) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: کیونکہ یہ ڈرانے و دھمکانے کا موقع ہے جس میں تغلیظ و تشدید مطلوب ہے، اور اس تفسیر میں یہ بات نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح الإسناد مقطوع