الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، عَلِيٍّ ، يَحْيَى
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: كَانَ سُفْيَانُ يَكْرَهُ هَذَا التَّفْسِيرَ لَيْسَ مِنَّا، لَيْسَ مِثْلَنَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یحییٰ کہتے ہیں سفیان «ليس منا» کی تفسیر «ليس مثلنا» (ہماری طرح نہیں ہے) سے کرنا ناپسند کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3453]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18769) (صحیح الإسناد)»
وضاحت
۱؎: کیونکہ یہ ڈرانے و دھمکانے کا موقع ہے جس میں تغلیظ و تشدید مطلوب ہے، اور اس تفسیر میں یہ بات نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح الإسناد مقطوع