بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: تول میں جھکتا ہوا (زیادہ) دینے اور اجرت لے کر تولنے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل باب: تول میں جھکتا ہوا (زیادہ) دینے اور اجرت لے کر تولنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 3336 سنن ابو داؤد
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، سُفْيَانُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، سُوَيْدُ بْنُ قَيْسٍ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ:" جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَفَةُ الْعَبْدِيُّ بَزًّا مِنْ هَجَرَ، فَأَتَيْنَا بِهِ مَكَّةَ، فَجَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي، فَسَاوَمَنَا بِسَرَاوِيلَ، فَبِعْنَاهُ، وَثَمَّ رَجُلٌ يَزِنُ بِالْأَجْرِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: زِنْ، وَأَرْجِحْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سوید بن قیس کہتے ہیں میں نے اور مخرمہ عبدی نے ہجر ۱؎ سے کپڑا لیا اور اسے (بیچنے کے لیے) مکہ لے کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس پیدل آئے، اور ہم سے پائجامہ کے کپڑے کے لیے بھاؤ تاؤ کیا تو ہم نے اسے بیچ دیا اور وہاں ایک شخص تھا جو معاوضہ لے کر وزن کیا کرتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تولو اور جھکا ہوا تولو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3336]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/البیوع 66 (1305)، سنن النسائی/البیوع 52 (4596)، سنن ابن ماجہ/التجارات 34 (2220)، اللباس 12 (3579)، (تحفة الأشراف: 4810)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/352)، سنن الدارمی/البیوع 47 (2627) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: مدینہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
مشكوة المصابيح (2924)
انظر الحديث الآتي (3337)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3337 سنن ابو داؤد
حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، أَبِي صَفْوَانَ بْنِ عُمَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، الْمَعْنَى قَرِيبٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي صَفْوَانَ بْنِ عُمَيْرَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَذْكُرْ: يَزِنُ بِالْأَجْرٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ قَيْسٌ، كَمَا قَالَ سُفْيَانُ، وَالْقَوْلُ قَوْلُ سُفْيَانَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوصفوان بن عمیرۃ (یعنی سوید) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آپ کی ہجرت سے پہلے مکہ آیا، پھر انہوں نے یہی حدیث بیان کی لیکن اجرت لے کر وزن کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے قیس نے بھی سفیان کی طرح بیان کیا ہے اور لائق اعتماد بات تو سفیان کی بات ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3337]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4810) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3338 سنن ابو داؤد
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رِزْمَةَ، سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ لِشُعْبَةَ: خَالَفَكَ سُفْيَانَ، قَالَ: دَمَغْتَنِي، وَبَلَغَنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، قَالَ: كُلُّ مَنْ خَالَفَ سُفْيَانَ، فَالْقَوْلُ قَوْلُ سُفْيَانَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابورزمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے شعبہ سے کہا: سفیان نے روایت میں آپ کی مخالفت کی ہے، آپ نے کہا: تم نے تو میرا دماغ چاٹ لیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن معین کی یہ بات پہنچی ہے کہ جس شخص نے بھی سفیان کی مخالفت کی تو لائق اعتماد بات سفیان کی بات ہو گی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3338]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی صحابی کا نام سوید بن قیس (جیسا کہ سفیان نے کہا ہے) زیادہ قابل اعتماد ہے بنسبت ابو صفوان بن عمیرۃ کے، لیکن اصحاب التراجم کا فیصلہ ہے کہ دونوں نام ایک ہی آدمی کے ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3339 سنن ابو داؤد
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: كَانَ سُفْيَانُ أَحْفَظَ مِنِّي.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
شعبہ کہتے ہیں سفیان کا حافظہ مجھ سے زیادہ قوی تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3339]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18808) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح مقطوع