بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: باوضو عیادت کرنے کی فضیلت کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: جنازے کے احکام و مسائل باب: باوضو عیادت کرنے کی فضیلت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 3097 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ ، الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحِ بْنِ خُلَيْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ، الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ الْوَاسِطِيُّ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحِ بْنِ خُلَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، وَعَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ مُحْتَسِبًا، بُوعِدَ مِنْ جَهَنَّمَ مَسِيرَةَ سَبْعِينَ خَرِيفًا". قُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، وَمَا الْخَرِيفُ؟ قَالَ: الْعَامُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَالَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ الْبَصْرِيُّونَ مِنْهُ الْعِيَادَةُ، وَهُوَ مُتَوَضِّئٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اچھی طرح سے وضو کرے اور ثواب کی نیت سے اپنے مسلم بھائی کی عیادت کرے تو وہ دوزخ سے ستر «خریف» کی مسافت کی مقدار دور کر دیا جاتا ہے، میں نے کہا! اے ابوحمزہ! «خریف» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: سال۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اہل بصرہ جن چیزوں میں منفرد ہیں ان میں بحالت وضو عیادت کا مسئلہ بھی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3097]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 461) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی فضل بن دلہم لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
الفضل بن دلھم لين ورمي بالإعتزال (تق : 5402) ضعفه الجمهور… واختلف قول أحمد وابن معين فيه و ضعفه راجح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 114
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 3098 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:" مَا مِنْ رَجُلٍ يَعُودُ مَرِيضًا مُمْسِيًا، إِلَّا خَرَجَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ حَتَّى يُصْبِحَ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ، وَمَنْ أَتَاهُ مُصْبِحًا، خَرَجَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ حَتَّى يُمْسِيَ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جو شخص کسی بیمار کی دن کے اخیر حصے میں عیادت کرتا ہے اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں اور فجر تک اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں، اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوتا ہے، اور جو شخص دن کے ابتدائی حصے میں عیادت کے لیے نکلتا ہے اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں اور شام تک اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں، اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوتا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3098]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، وانظر الحدیث الآتي، (تحفة الأشراف: 10211) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
الحكم بن عتيبة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 115
الحكم: صحيح موقوف
حدیث نمبر: 3099 سنن ابو داؤد
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، الْحَكَمِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ، لَمْ يَذْكُرِ الْخَرِيفَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَكَمِ أَبِي حَفْصٍ، كَمَا رَوَاهُ شُعْبَةُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی معنی کی حدیث روایت کرتے ہیں لیکن انہوں نے اس میں «خریف» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے منصور نے حکم سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے شعبہ نے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3099]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الجنائز 2 (1442)، (تحفة الأشراف: 10211)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 2 (969)، مسند احمد (1/81، 120) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح مرفوع
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1442)
سليمان الأعمش و الحكم بن عتيبة لم يصرحا بالسماع وروي ابن حبان (الموارد: 710) عن علي رضي اللّٰه عنه قال: سمعت رسول اللّٰه صلى الله عليه و آله وسلم يقول : ((ما من امرئ مسلم يعود مسلمًا إلا ابتعث اللّٰه سبعين ألف ملك يصلون عليه في أي ساعات النھار حتي يمسي و في أي ساعات الليل حتي يصبح)) وسنده حسن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 115
الحكم: صحيح مرفوع
حدیث نمبر: 3100 سنن ابو داؤد
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، الْحَكَمِ ، أَبِي جَعْفَرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ ، الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، قَالَ: وَكَانَ نَافِعٌ غُلَامُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: جَاءَ أَبُو مُوسَى إِلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ يَعُودُهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد، وَسَاقَ مَعْنَى حَدِيثِ شُعْبَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: أُسْنِدَ هَذَا عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ صَحِيحٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوجعفر عبداللہ بن نافع سے روایت ہے، راوی کہتے ہیں اور نافع حسن بن علی کے غلام تھے وہ کہتے ہیں: ابوموسیٰ حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لیے آئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: راوی نے اس کے بعد شعبہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث بواسطہ علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ضعیف طریق سے مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3100]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف: 10211) (صحیح مرفوع)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح مرفوع
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
الحكم عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 115
الحكم: صحيح مرفوع