بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: دشمن سے مڈبھیڑ کے وقت خاموش رہنے کا حکم۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: جہاد کے مسائل باب: دشمن سے مڈبھیڑ کے وقت خاموش رہنے کا حکم۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2656 سنن ابو داؤد
مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، هِشَامٌ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةُ ، الْحَسَنِ ، قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ. ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُونَ الصَّوْتَ عِنْدَ الْقِتَالِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
قیس بن عباد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قتال کے وقت آواز ۱؎ ناپسند کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2656]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9128) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: دوران قتال آواز کرنے سے مراد مجاہدین کا آپس میں ایک دوسرے کو بآواز بلند نام لے کر پکارنا یا ایسے الفاظ سے پکارنا ہے جس سے وہ فخر و غرور میں مبتلا ہو جائیں، اسے صحابہ ناپسند کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة و الحسن البصري عنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 97
الحكم: صحيح موقوف
حدیث نمبر: 2657 سنن ابو داؤد
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، هَمَّامٍ ، مَطَرٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ هَمَّامٍ، حَدَّثَنِي مَطَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوبردہ رضی اللہ عنہ اپنے والد (ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2657]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9128) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سابقہ حدیث میں ہشام دستوائی نے اسے قیس بن عباد کا قول روایت کیا ہے مطر صدوق راوی ہیں لیکن علماء نے انہیں کثیر الخطا قرار دیا ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (2656)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 97
الحكم: ضعيف