أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، الزُّبَيْرِ بْنِ خِرِّيتٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ خِرِّيتٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَزَلَتْ إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ سورة الأنفال آية 65، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ حِينَ فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَنْ لَا يَفِرَّ وَاحِدٌ مِنْ عَشَرَةٍ، ثُمَّ إِنَّهُ جَاءَ تَخْفِيفٌ فَقَالَ: الآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ سورة الأنفال آية 66، قَرَأَ أَبُو تَوْبَةَ إِلَى قَوْلِهِ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ سورة الأنفال آية 66، قَالَ: فَلَمَّا خَفَّفَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ مِنَ الْعِدَّةِ نَقَصَ مِنَ الصَّبْرِ بِقَدْرِ مَا خَفَّفَ عَنْهُمْ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ «إن يكن منكم عشرون صابرون يغلبوا مائتين» ”اگر تم میں سے بیس بھی صبر کرنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب رہیں گے“ (سورۃ الانفال: ۶۵) نازل ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر یہ فرض کر دیا کہ ان میں کا ایک آدمی دس کافروں کے مقابلہ میں نہ بھاگے، تو یہ چیز ان پر شاق گزری، پھر تخفیف ہوئی اور اللہ نے فرمایا: «الآن خفف الله عنكم» ”اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کر دیا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ تم میں کمزوری ہے تو اگر تم میں سے ایک سو صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب رہیں گے“ (سورۃ الانفال: ۶۶)۔ ابوتوبہ نے پوری آیت «يغلبوا مائتين» تک پڑھ کر سنایا اور کہا: جب اللہ نے ان سے تعداد میں تخفیف کر دی تو اس تخفیف کی مقدار میں صبر میں بھی کمی کر دی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2646]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/التفسیر 7 (4653)، (تحفة الأشراف: 6088) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (4653)
الحكم: صحيح