مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمِصْرِيُّ ، بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، دَاوُدُ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: نَزَلَتْ فِي يَوْمِ بَدْرٍ وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ سورة الأنفال آية 16.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ «ومن يولهم يومئذ دبره» ۱؎ بدر کے دن نازل ہوئی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2648]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4316) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: پوری آیت اس طرح ہے «إلا متحرفا لقتال أو متحيزا إلى فئة فقد باء بغضب من الله» (سورۃ الانفال: ۱۶) ” جو شخص لڑائی سے اپنی پیٹھ موڑے گا، مگر ہاں جو لڑائی کے لئے پینترا بدلتا ہو یا اپنی جماعت کی طرف پناہ لینے آتا ہو وہ مستثنی ہے باقی جو ایسا کر ے گا وہ اللہ کے غضب میں آ جائیگا “، حدیث میں مذکور ہے لوگوں نے خود کو اس آیت کا مصداق سمجھ لیا تھا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو مستثنی لوگوں میں سے قرار دیا۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح