بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: دشمنوں کے کھیت اور باغات کو آگ لگانے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: جہاد کے مسائل باب: دشمنوں کے کھیت اور باغات کو آگ لگانے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2615 سنن ابو داؤد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، اللَّيْثُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ وَهِيَ البُوَيْرَةُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا سورة الحشر آية 5.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنونضیر کے کھجوروں کے باغات جلا دیے اور درختوں کو کاٹ ڈالا (یہ مقام بویرہ میں تھا) تو اللہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی «ما قطعتم من لينة أو تركتموها» کھجور کے جو درخت تم نے کاٹ ڈالے، یا اپنی جڑوں پر انہیں قائم رہنے دیا، یہ سب اللہ کے حکم سے تھا (سورۃ الحشر: ۵)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2615]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/المزارعة 4 (2356)، الجھاد 154 (3020)، المغازي 14 (4031)، صحیح مسلم/الجھاد 10 (1746)، سنن الترمذی/التفسیر 59 (3302)، والسیر 4 (1552)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 31 (2844)، (تحفة الأشراف: 8267)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/السیر 23 (2503)، مسند احمد (2/123، 140) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (4884) صحيح مسلم (1746)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2616 سنن ابو داؤد
هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، ابْنِ الْمُبَارَكِ ، صَالِحِ بْنِ أَبِي الأَخْضَرِ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةُ ، أُسَامَةُ
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الأَخْضَرِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ، فَحَدَّثَنِي أُسَامَةُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَهِدَ إِلَيْهِ فَقَالَ: أَغِرْ عَلَى أُبْنَى صَبَاحًا وَحَرِّقْ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عروہ کہتے ہیں کہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں وصیت کی تھی اور فرمایا تھا: ابنی ۱؎ پر صبح سویرے حملہ کرو اور اسے جلا دو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2616]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الجھاد 31 (2843)، (تحفة الأشراف: 107)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/205، 209) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی صالح ضعیف ہیں)
وضاحت
۱؎: فلسطین میں رملہ اور عسقلان کے مابین ایک مقام کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2843)
صالح بن أبي الأخضر: ضعيف يعتبر به (تق :2844) و قال البوصيري : لينه الجمھور (زوائد ابن ماجه للبوصيري : 1098) و قال الھيثمي : و قد ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 150/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 96
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 2617 سنن ابو داؤد
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ، سَمِعْتُ أَبَا مُسْهِرٍ قِيلَ لَهُ: أُبْنَى، قَالَ: نَحْنُ أَعْلَمُ هِيَ يُبْنَى فِلَسْطِينَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو غزی کہتے ہیں کہ ابومسہر کے سامنے ابنیٰ کا تذکرہ آیا تو میں نے ان کو کہتے ہوئے سنا: ہم جانتے ہیں یہ یُبنی ہے جو فلسطین میں ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2617]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18949) (مقطوع)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: مقطوع