قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، اللَّيْثُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ وَهِيَ البُوَيْرَةُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا سورة الحشر آية 5.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنونضیر کے کھجوروں کے باغات جلا دیے اور درختوں کو کاٹ ڈالا (یہ مقام بویرہ میں تھا) تو اللہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی «ما قطعتم من لينة أو تركتموها» ”کھجور کے جو درخت تم نے کاٹ ڈالے، یا اپنی جڑوں پر انہیں قائم رہنے دیا، یہ سب اللہ کے حکم سے تھا“ (سورۃ الحشر: ۵)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2615]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/المزارعة 4 (2356)، الجھاد 154 (3020)، المغازي 14 (4031)، صحیح مسلم/الجھاد 10 (1746)، سنن الترمذی/التفسیر 59 (3302)، والسیر 4 (1552)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 31 (2844)، (تحفة الأشراف: 8267)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/السیر 23 (2503)، مسند احمد (2/123، 140) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (4884) صحيح مسلم (1746)
الحكم: صحيح