بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: رمضان کے استقبال کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: روزوں کے احکام و مسائل باب: رمضان کے استقبال کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 2328 سنن ابو داؤد
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، مُطَرِّفٍ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، وَسَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي الْعَلَاءِ ، مُطَرِّفٍ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَسَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ:" هَلْ صُمْتَ مِنْ شَهْرِ شَعْبَانَ شَيْئًا؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمًا"، وَقَالَ أَحَدُهُمَا:" يَوْمَيْنِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک شخص سے پوچھا: کیا تم نے شعبان کے کچھ روزے رکھے ہیں ۱؎؟، جواب دیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب (رمضان کے) روزے رکھ چکو تو ایک روزہ اور رکھ لیا کرو، ان دونوں میں کسی ایک راوی کی روایت میں ہے: دو روزے رکھ لیا کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2328]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 62(1983تعلیقًا)، صحیح مسلم/الصوم 37 (1161)، (عندالجمیع: ’’من سرر شعبان‘‘)، (تحفة الأشراف: 10844، 10855)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/432، 434، 442، 443، 446)، سنن الدارمی/الصوم 35 (1183) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: مؤلف کے سوا ہر ایک کے یہاں «شهر» (مہینہ) کی بجائے «سرر» (آخر ماہ) کا لفظ ہے، بلکہ خود مؤلف کے بعض نسخوں میں بھی یہی لفظ ہے، اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ: اس آدمی کی عادت تھی کہ ہر مہینہ کے اخیر میں روزہ رکھا کرتا تھا، مگر رمضان سے ایک دو دن برائے استقبال رمضان روزہ کی ممانعت سن کر اس نے اپنے معمول والا یہ روزہ نہیں رکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی غلط فہمی دور کرنے کے لئے ایسا فرمایا، یعنی: رمضان سے ایک دو دن قبل روزہ رکھنے کا اگر کسی کا معمول ہو تو وہ رکھ سکتا ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ معمول کی عبادت اگر کسی سبب سے چھوٹ جائے تو اس کی قضا کر لینی چاہئے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1983) صحيح مسلم (1161)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2329 سنن ابو داؤد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبِي الْأَزْهَرِ الْمُغِيرَةِ بْنِ فَرْوَةَ ، مُعَاوِيَةُ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ مِنْ كِتَابِهِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي الْأَزْهَرِ الْمُغِيرَةِ بْنِ فَرْوَةَ، قَالَ: قَامَ مُعَاوِيَةُ فِي النَّاسِ بِدَيْرِ مِسْحَلٍ الَّذِي عَلَى بَابِ حِمْصَ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّا قَدْ رَأَيْنَا الْهِلَالَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، وَأَنَا مُتَقَدِّمٌ بِالصِّيَامِ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَفْعَلَهُ فَلْيَفْعَلْهُ، قَالَ: فَقَامَ إِلَيْهِ مَالِكُ بْنُ هُبَيْرَةَ السَّبَئِيُّ، فَقَالَ: يَا مُعَاوِيَةُ، أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَمْ شَيْءٌ مِنْ رَأْيِكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" صُومُوا الشَّهْرَ وَسِرَّهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوازہر مغیرہ بن فروہ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے دیر مسحل پر (جو کہ حمص کے دروازے پر واقع ہے)، کھڑے ہو کر لوگوں سے کہا: لوگو! ہم نے چاند فلاں فلاں دن دیکھ لیا ہے اور میں سب سے پہلے روزہ رکھ رہا ہوں، جو شخص روزہ رکھنا چاہے رکھ لے، مالک بن ہبیرہ سبئی نے کھڑے ہو کر ان سے کہا: معاویہ! یہ بات آپ نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سن کر کہی ہے، یا آپ کی اپنی رائے ہے؟ جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: رمضان کے مہینے کے روزے رکھو اور آخر شعبان کے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2329]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11444) (ضعيف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی مغیرہ بن فروہ لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الوليد بن مسلم صرح بالسماع المسلسل عند الطبراني في معجم الكبير (19/384 ح 901) ومسند الشاميين (1/451 ح 795)
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 2330 سنن ابو داؤد
سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ، الْوَلِيدُ ، أَبَا عَمْرٍو يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: قَالَ الْوَلِيدُ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ، يَقُولُ: سِرُّهُ أَوَّلُهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سلیمان بن عبدالرحمٰن نے اس حدیث کے سلسلہ میں بیان کیا ہے کہ ولید کہتے ہیں: میں نے ابوعمرو یعنی اوزاعی کو کہتے سنا ہے کہ «سرہ» کے معنی اوائل ماہ کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2330]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18966) (شاذ مقطوع)» ‏‏‏‏ (کیونکہ صحیح معنی: «اواخرماہ» ہے)
قال الشيخ الألباني
شاذ مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: شاذ مقطوع
حدیث نمبر: 2331 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، أَبُو مُسْهِرٍ ، سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، قَالَ: كَانَ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَقُولُ: سِرُّهُ أَوَّلُهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَالَ بَعْضُهُمْ: سِرُّهُ وَسَطُهُ. وَقَالُوا: آخِرُهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابومسہر کہتے ہیں سعید یعنی ابن عبدالعزیز کہتے ہیں «سره» کے معنی «أوله» کے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «سره» کے معنی کچھ لوگ «وسطه» کے بتاتے ہیں اور کچھ لوگ «آخره» کے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2331]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 18966، 18693) (شاذ)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
شاذ
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: شاذ