بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عورت کو طلاق کا اختیار دینے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل باب: عورت کو طلاق کا اختیار دینے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2203 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ، فَلَمْ يَعُدَّ ذَلِكَ شَيْئًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں (اپنے عقد میں رہنے یا نہ رہنے کا) اختیار دیا تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی کو اختیار کیا، پھر آپ نے اسے کچھ بھی شمار نہیں کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2203]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الطلاق 5 (5262)، صحیح مسلم/الطلاق 4 (1477)، سنن الترمذی/الطلاق 4 (1179)، سنن النسائی/النکاح 2 (3204) والطلاق 27 (3474)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 20 (2052)، (تحفة الأشراف: 17634)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/45، 47، 171، 173، 185، 202، 205، 239)، سنن الدارمی/الطلاق 5 (2315) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی اسے طلاق قرار نہیں دیا، اکثر علماء کی یہی رائے ہے کہ جب شوہر بیوی کو اختیار دے اور وہ شوہر ہی کو اختیار کرلے تو کوئی طلاق واقع نہ ہوگی اور زید بن ثابت اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک ایک طلاق پڑ جائے گی، مگر پہلی بات ہی ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (5262) صحيح مسلم (1477)
الحكم: صحيح