بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: طواف وداع کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل باب: طواف وداع کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2005 سنن ابو داؤد
وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، خَالِدٍ ، أَفْلَحَ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَفْلَحَ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَحْرَمْتُ مِنْ التَّنْعِيمِ بِعُمْرَةٍ فَدَخَلْتُ فَقَضَيْتُ عُمْرَتِي وَانْتَظَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَبْطَحِ حَتَّى فَرَغْتُ وَأَمَرَ النَّاسَ بِالرَّحِيلِ، قَالَتْ: وَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَطَافَ بِهِ ثُمَّ خَرَجَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے تنعیم سے عمرے کا احرام باندھا پھر میں (مکہ) گئی اور اپنا عمرہ پورا کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مقام ابطح ۱؎ میں میرا انتظار کیا یہاں تک کہ میں فارغ ہو کر (آپ کے پاس واپس آ گئی) تو آپ نے لوگوں کو روانگی کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خانہ کعبہ آئے اور اس کا طواف کیا پھر روانہ ہوئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 2005]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، (تحفة الأشراف:17443،17440)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/124) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: وہ میدان جو مکہ اور منیٰ کے درمیان ہے اسے وادی محصب بھی کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح، صحيح بخاري (1560) صحيح مسلم (1211)
مشكوة المصابيح (2667)
انظر الحديث الآتي (2006)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2006 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، أَفْلَحُ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" خَرَجْتُ مَعَهُ، تَعْنِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي النَّفْرِ الْآخِرِ، فَنَزَلَ الْمُحَصَّبَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ بَشَّارٍ قِصَّةَ بَعْثِهَا إِلَى التَّنْعِيمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَتْ: ثُمَّ جِئْتُهُ بِسَحَرٍ، فَأَذَّنَ فِي أَصْحَابِهِ بِالرَّحِيلِ، فَارْتَحَلَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَطَافَ بِهِ حِينَ خَرَجَ ثُمَّ انْصَرَفَ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ آخری دن کی روانگی میں نکلی تو آپ وادی محصب میں اترے، (ابوداؤد کہتے ہیں: ابن بشار نے اس حدیث میں ان کے تنعیم بھیجے جانے کا واقعہ ذکر نہیں کیا) پھر میں صبح کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی، تو آپ نے لوگوں میں روانگی کی منادی کرا دی، پھر خود روانہ ہوئے تو فجر سے پہلے بیت اللہ سے گزرے اور نکلتے وقت اس کا طواف کیا، پھر مدینہ کا رخ کر کے چل پڑے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 2006]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 17434، 17441) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1560) صحيح مسلم (1211)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2007 سنن ابو داؤد
يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ طَارِقٍ ، أُمِّهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ طَارِقٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أُمِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا جَازَ مَكَانًا مِنْ دَارِ يَعْلَى نَسِيَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ اسْتَقْبَلَ الْبَيْتَ فَدَعَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبدالرحمٰن بن طارق اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب یعلیٰ کے گھر کی جگہ سے آگے بڑھتے (اس جگہ کا نام عبیداللہ بھول گئے) تو بیت اللہ کی جانب رخ کرتے اور دعا مانگتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 2007]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی/الحج 123 (2899)، (تحفة الأشراف: 18374)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/436، 437) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عبدالرحمن لین الحدیث ہیں)
وضاحت
۱؎: نہ تو یہ حدیث صحیح ہے اور نہ ہی باب سے اس کا کوئی تعلق ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (2899)
عبدالرحمان بن طارق: مجهول،انظر التحرير (3904) وثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
الحكم: ضعيف