يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ طَارِقٍ ، أُمِّهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ طَارِقٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أُمِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا جَازَ مَكَانًا مِنْ دَارِ يَعْلَى نَسِيَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ اسْتَقْبَلَ الْبَيْتَ فَدَعَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبدالرحمٰن بن طارق اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب یعلیٰ کے گھر کی جگہ سے آگے بڑھتے (اس جگہ کا نام عبیداللہ بھول گئے) تو بیت اللہ کی جانب رخ کرتے اور دعا مانگتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 2007]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/الحج 123 (2899)، (تحفة الأشراف: 18374)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/436، 437) (ضعیف)» (اس کے راوی عبدالرحمن لین الحدیث ہیں)
وضاحت
۱؎: نہ تو یہ حدیث صحیح ہے اور نہ ہی باب سے اس کا کوئی تعلق ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (2899)
عبدالرحمان بن طارق: مجهول،انظر التحرير (3904) وثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
الحكم: ضعيف