بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مکہ سے منیٰ جانے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل باب: مکہ سے منیٰ جانے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1911 سنن ابو داؤد
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ الضَّبِّيُّ ، عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ وَالْفَجْرَ يَوْمَ عَرَفَةَ بِمِنًى".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) کو ظہر اور یوم عرفہ (نویں ذی الحجہ) کو فجر منیٰ میں پڑھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1911]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الحج 50 (880)، (تحفة الأشراف: 6465)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/255، 296، 297، 303)، دی/المناسک 46 (1913) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
وله شواھد عند ابن ماجه (3005 وسنده حسن) وانظر الحديث الآتي (1913)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1912 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رَفِيعٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رَفِيعٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟ فَقَالَ: بِمِنًى، قُلْتُ: فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟ قَالَ: بِالْأَبْطَحِ، ثُمَّ قَالَ: افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اور کہا: مجھے آپ وہ بتائیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آپ کو یاد ہو کہ آپ نے ظہر یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) کو کہاں پڑھی؟ انہوں نے کہا: منیٰ میں، میں نے عرض کیا تو لوٹنے کے دن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عصر کہاں پڑھی؟ فرمایا: ابطح میں، پھر کہا: تم وہی کرو جو تمہارے امراء کریں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1912]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏* تخريج:صحیح البخاری/الحج 83 (1653)، 146 (1763)، صحیح مسلم/الحج 58 (1308)، سنن الترمذی/الحج 116 (964)، سنن النسائی/الحج 190 (3000)، (تحفة الأشراف: 988)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/100)، سنن الدارمی/المناسک 46 (1914) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی اس طرح کے چھوٹے چھوٹے مسئلوں میں امیر کی مخالفت نہ کرو کیوں کہ ان کی مخالفت بسا اوقات فتنوں اور فساد کا موجب ہوتی ہے، خصوصاً جب کہ امراء ظالم ہوں ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اتباع تو ہر حال میں بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1763) صحيح مسلم (1309)
الحكم: صحيح