أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رَفِيعٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رَفِيعٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟ فَقَالَ: بِمِنًى، قُلْتُ: فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟ قَالَ: بِالْأَبْطَحِ، ثُمَّ قَالَ: افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اور کہا: مجھے آپ وہ بتائیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آپ کو یاد ہو کہ آپ نے ظہر یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) کو کہاں پڑھی؟ انہوں نے کہا: منیٰ میں، میں نے عرض کیا تو لوٹنے کے دن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عصر کہاں پڑھی؟ فرمایا: ابطح میں، پھر کہا: تم وہی کرو جو تمہارے امراء کریں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1912]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«* تخريج:صحیح البخاری/الحج 83 (1653)، 146 (1763)، صحیح مسلم/الحج 58 (1308)، سنن الترمذی/الحج 116 (964)، سنن النسائی/الحج 190 (3000)، (تحفة الأشراف: 988)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/100)، سنن الدارمی/المناسک 46 (1914) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی اس طرح کے چھوٹے چھوٹے مسئلوں میں امیر کی مخالفت نہ کرو کیوں کہ ان کی مخالفت بسا اوقات فتنوں اور فساد کا موجب ہوتی ہے، خصوصاً جب کہ امراء ظالم ہوں ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اتباع تو ہر حال میں بہتر ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1763) صحيح مسلم (1309)
الحكم: صحيح