بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مسافر قصر کب کرے؟
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: نماز سفر کے احکام و مسائل باب: مسافر قصر کب کرے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1201 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ ، أَنَسٌ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ،فَقَالَ أَنَسٌ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَمْيَالٍ أَوْ ثَلَاثَةِ فَرَاسِخَ، شُعْبَةُ شَكَّ، يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یحییٰ بن یزید ہنائی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز قصر کرنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب تین میل یا تین فرسخ (یہ شک شعبہ کو ہوا ہے) کی مسافت پر نکلتے تو دو رکعت پڑھتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1201]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 1 (691)، (تحفة الأشراف: 1671)، وقد أخرجہ: حم(3/ 129) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: قصر کے لئے مسافت کی تحدید میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کوئی صریح قول نہیں ہے، فعلی احادیث میں سب سے صحیح یہی حدیث ہے، اس کے مطابق (اکثر مسافت تین فرسخ کے مطابق) نو میل کی مسافت سے قصر کی جا سکتی ہے، جو کیلو میٹر کے حساب سے ساڑھے چودہ کیلو میٹر ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (691)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1202 سنن ابو داؤد
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، ابْنُ عُيَيْنَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مدینے میں ظہر چار رکعت پڑھی اور ذو الحلیفہ میں عصر دو رکعت ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1202]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 5 (1089)، والحج 24 (1546)، 25 (1548)، 119 (1714)، والجہاد 104 (2951)، صحیح مسلم/المسافرین 1 (690)، سنن الترمذی/الصلاة 274 (546)، سنن النسائی/الصلاة 11 (470)، (تحفة الأشراف: 166، 1573)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/ 110، 111، 177، 186، 237، 268)، سنن الدارمی/الصلاة 179 (1548)، ویأتي في الحج برقم 1773) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ مسافر جب شہر کی آبادی سے باہر نکل جائے تو اس کے لئے قصر کرنا جائز ہو جاتا ہے، ذوالحلیفہ مدینہ سے (مکہ کے راستے میں) تیرہ کیلو میٹر کی دوری پر ہے، جو اہل مدینہ کی میقات ہے، اس وقت یہ ابیار علی سے بھی مشہور ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1089) صحيح مسلم (690)
الحكم: صحيح