بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: تشہد میں کس طرح بیٹھے؟
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل باب: تشہد میں کس طرح بیٹھے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 957 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، أَبِيهِ ، وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: قُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي،" فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَكَبَّرَ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِأُذُنَيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَحَدَّ مِرْفَقَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَقَبَضَ ثِنْتَيْنِ، وَحَلَّقَ حَلْقَةً، وَرَأَيْتُهُ يَقُولُ هَكَذَا: وَحَلَّقَ بِشْرٌ الْإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے طریقہ نماز کو دیکھوں گا کہ آپ کس طرح نماز پڑھتے ہیں؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (نماز کے لیے) کھڑے ہوئے تو قبلہ کا استقبال کیا پھر تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہہ کر دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ انہیں پھر اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل کیا پھر اپنا بایاں ہاتھ اپنے داہنے ہاتھ سے پکڑا، پھر جب آپ نے رکوع کرنا چاہا تو انہیں پھر اسی طرح اٹھایا، (رفع یدین کیا) وہ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھے تو اپنے بائیں پیر کو بچھا لیا اور اپنے بائیں ہاتھ کو اپنی بائیں ران پر رکھا اور اپنی داہنی کہنی کو اپنی داہنی ران سے اٹھائے رکھا اور دونوں انگلیاں (یعنی چھنگلیا اور اس کے قریب کی انگلی) بند کر لی اور (بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے) حلقہ بنا لیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا۔ اور بشر (راوی) نے بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بنا کر اور کلمے کی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 957]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر حدیث رقم (726)، (تحفة الأشراف: 11781) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے اور اس کے علاوہ جتنی حدیثیں اس سلسلے میں آئی ہیں،ان سب سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ شروع ہی سے آپ اسی طرح (انگلی کے) اشارہ کی شکل پر بیٹھتے ہی تھے نہ یہ کہ جب أشہدان لاإلہ إلاللہ پڑھتے تب انگلی سے اشارہ کرتے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (911)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 958 سنن ابو داؤد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، مَالِكٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ:"سُنَّةُ الصَّلَاةِ أَنْ تَنْصِبَ رِجْلَكَ الْيُمْنَى وَتَثْنِيَ رِجْلَكَ الْيُسْرَى".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نماز کی سنت یہ ہے کہ تم اپنا دایاں پیر کھڑا رکھو اور بایاں پیر موڑ کر رکھو۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 958]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 145 (827)، سنن النسائی/التطبیق 96 (1157)، (تحفة الأشراف: 7269)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 12(51) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (827)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 959 سنن ابو داؤد
ابْنُ مُعَاذٍ ، عَبْدُ الْوَهَّابِ ، يَحْيَى ، الْقَاسِمَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ:" مِنْ سُنَّةِ الصَّلَاةِ أَنْ تُضْجِعَ رِجْلَكَ الْيُسْرَى وَتَنْصِبَ الْيُمْنَى".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نماز کی سنت میں سے یہ ہے کہ تم اپنا بایاں پیر بچھائے رکھو اور داہنا پیر کھڑا رکھو۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 959]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 7269) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
انظر الحديث السابق (958)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 960 سنن ابو داؤد
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَرِيرٌ ، يَحْيَى
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بِإِسْنَادِهِ، مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ: عَنْ يَحْيَى أَيْضًا، مِنَ السُّنَّةِ. كَمَا قَالَ جَرِيرٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس طریق سے بھی یحییٰ سے اسی سند سے اسی کے مثل مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن زید نے یحییٰ سے «من السنة» کا لفظ روایت کیا ہے جیسے جریر نے کہا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 960]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (958)، (تحفة الأشراف: 7269) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
انظر الحديث السابق (958)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 961 سنن ابو داؤد
الْقَعْنَبِيُّ ، مَالِكٍ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَرَاهُمُ الْجُلُوسَ فِي التَّشَهُّدِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ قاسم بن محمد نے (اپنے ساتھیوں کو) تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت دکھائی پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 961]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر حدیث رقم (958)، (تحفة الأشراف: 7279، 191204) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
انظر الحديثين السابقين (958، 960)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 962 سنن ابو داؤد
هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَكِيعٍ ، سُفْيَانَ ، الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، إِبْرَاهِيم
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيم، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ افْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى حَتَّى اسْوَدَّ ظَهْرُ قَدَمِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز میں (تشہد کے لیے) بیٹھتے تو اپنا بایاں پیر بچھاتے یہاں تک کہ آپ کے قدم کی پشت سیاہ ہو گئی تھی۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 962]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7269، 18404) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں انقطاع ہے، ابراہیم نخعی کی اکثر روایتیں تابعین سے ہوتی ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
الثوري عنعن
والحديث مرسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 46
الحكم: ضعيف