بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سترے کے قریب کھڑے ہونے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد ابواب: سترے کے احکام ومسائل باب: سترے کے قریب کھڑے ہونے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 695 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ ، سُفْيَانُ ، عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَحَامِدُ بْنُ يَحْيَى ، وَابْنُ السَّرْحِ ، سُفْيَانُ ، صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَحَامِدُ بْنُ يَحْيَى، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ فَلْيَدْنُ مِنْهَا لَا يَقْطَعِ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ وَاقِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَفْوَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ بَعْضُهُمْ: عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَاخْتُلِفَ فِي إِسْنَادِهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص سترے کی آڑ میں نماز پڑھے تو چاہیئے کہ اس کے نزدیک رہے، تاکہ شیطان اس کی نماز توڑ نہ سکے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے واقد بن محمد نے صفوان سے، صفوان نے محمد بن سہل سے، محمد نے اپنے والد سہل بن ابی حثمہ سے، یا (بغیر اپنے والد کے واسطہ کے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور بعض نے نافع بن جبیر سے اور نافع نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے، اور اس کی سند میں اختلاف کیا گیا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 695]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی/القبلة 5 (749)، (تحفة الأشراف: 4648)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/2) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (782)
سفيان صرح بالسماع عند ابن خزيمة (803 وسنده صحيح)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 696 سنن ابو داؤد
الْقَعْنَبِيُّ ، وَالنُّفَيْلِيُّ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي ، سَهْلٍ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، وَالنُّفَيْلِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ:" وَكَانَ بَيْنَ مَقَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ مَمَرُّ عَنْزٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْخَبَرُ لِلنُّفَيْلِيِّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کھڑے ہونے کی جگہ اور قبلہ (کی دیوار) کے درمیان ایک بکری کے گزرنے کے بقدر جگہ ہوتی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حدیث کے الفاظ نفیلی کے ہیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 696]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 91 (496)، والاعتصام 15 (7334)، صحیح مسلم/الصلاة 47 (508)، (تحفة الأشراف: 4707) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
معلوم ہوا کہ سترے کے قریب کھڑا ہوا جائے اور فاصلہ اتنا ہو کہ بآسانی سجدہ ہو سکے۔ اس سے ضمناً یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اگر دیوار (سترے) اور امام کے درمیان فاصلہ زیادہ ہو تو امام کو چاہیے کہ وہ اپنے آگے سترہ رکھے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (496) صحيح مسلم (508)
الحكم: صحيح