مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ ، سُفْيَانُ ، عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَحَامِدُ بْنُ يَحْيَى ، وَابْنُ السَّرْحِ ، سُفْيَانُ ، صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَحَامِدُ بْنُ يَحْيَى، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ فَلْيَدْنُ مِنْهَا لَا يَقْطَعِ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ وَاقِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَفْوَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ بَعْضُهُمْ: عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَاخْتُلِفَ فِي إِسْنَادِهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص سترے کی آڑ میں نماز پڑھے تو چاہیئے کہ اس کے نزدیک رہے، تاکہ شیطان اس کی نماز توڑ نہ سکے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے واقد بن محمد نے صفوان سے، صفوان نے محمد بن سہل سے، محمد نے اپنے والد سہل بن ابی حثمہ سے، یا (بغیر اپنے والد کے واسطہ کے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور بعض نے نافع بن جبیر سے اور نافع نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے، اور اس کی سند میں اختلاف کیا گیا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 695]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/القبلة 5 (749)، (تحفة الأشراف: 4648)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/2) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (782)
سفيان صرح بالسماع عند ابن خزيمة (803 وسنده صحيح)
الحكم: صحيح