بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: آدمی صف میں ملنے سے پہلے ہی رکوع کر لے تو اس کے حکم کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد ابواب: صف بندی کے احکام ومسائل باب: آدمی صف میں ملنے سے پہلے ہی رکوع کر لے تو اس کے حکم کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 683 سنن ابو داؤد
حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، زِيَادٍ الْأَعْلَمِ ، الْحَسَنُ ، أَبَا بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ حَدَّثَ أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ، قَالَ: فَرَكَعْتُ دُونَ الصَّفِّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ مسجد میں آئے اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکوع میں تھے، وہ کہتے ہیں: تو میں نے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) فرمایا: اللہ تمہارے شوق کو بڑھائے، آئندہ ایسا نہ کرنا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 683]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 114 (783)، سنن النسائی/الإمامة 63 (872)، (تحفة الأشراف: 11659)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/39، 42، 45، 46، 50) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
آیندہ ایسے نہ کرنا کا مطلب ہے کہ یہ دیکھ کر کہ جماعت ہو رہی ہے اور امام رکوع میں چلا گیا ہے، تو تم تیزی سے دوڑتے ہوئے آؤ، اور پھر دروازے ہی سے رکوع کر لو اور حالت رکوع میں چلتے ہوئے صف میں شامل ہو۔ آیندہ اس طرح نہ کرنا، بلکہ اطمینان اور وقار سے آ کر صف میں شامل ہو۔ معلوم ہوا کہ نیکی کرنے میں اگر کسی سے کوئی خطا ہو جائے تو پہلے اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے پھر صحیح طریقہ بتانا یا سکھانا چاہیے۔ نمازی کو پہلے اطمینان سے صف میں پہنچنا چاہیے۔ اس کے بعد سکون سے تکبیر کہہ کر نماز میں شامل ہو۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (783)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 684 سنن ابو داؤد
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادٌ ، زِيَادٌ الْأَعْلَمُ ، الْحَسَنِ ، أَبُو بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا زِيَادٌ الْأَعْلَمُ، عَنْ الْحَسَنِ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ جَاءَ وَرَسُولُ اللَّهِ رَاكِعٌ فَرَكَعَ دُونَ الصَّفِّ ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّفِّ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، قَالَ: أَيُّكُمُ الَّذِي رَكَعَ دُونَ الصَّفِّ ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّفِّ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ: أَنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: زِيَادٌ الْأَعْلَمُ زِيَادُ بْنُ فُلَانِ بْنِ قُرَّةَ وَهُوَ ابْنُ خَالَةِ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ الله.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ (مسجد میں) آئے اس حال میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکوع میں تھے، انہوں نے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا، پھر وہ صف میں ملنے کے لیے چلے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ چکے، تو آپ نے پوچھا: تم میں سے کس نے صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کیا تھا، پھر وہ صف میں ملنے کے لیے چل کر آیا؟، ابوبکرہ نے کہا: میں نے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہاری نیکی کی حرص کو بڑھائے، آئندہ ایسا نہ کرنا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «زياد الأعلم» سے مراد زیاد بن فلاں بن قرہ ہیں، جو یونس بن عبید کے خالہ زاد بھائی ہیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 684]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11659) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
انظر الحديث السابق (683)
الحكم: صحيح