مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادٌ ، زِيَادٌ الْأَعْلَمُ ، الْحَسَنِ ، أَبُو بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا زِيَادٌ الْأَعْلَمُ، عَنْ الْحَسَنِ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ جَاءَ وَرَسُولُ اللَّهِ رَاكِعٌ فَرَكَعَ دُونَ الصَّفِّ ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّفِّ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، قَالَ: أَيُّكُمُ الَّذِي رَكَعَ دُونَ الصَّفِّ ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّفِّ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ: أَنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: زِيَادٌ الْأَعْلَمُ زِيَادُ بْنُ فُلَانِ بْنِ قُرَّةَ وَهُوَ ابْنُ خَالَةِ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ الله.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ (مسجد میں) آئے اس حال میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکوع میں تھے، انہوں نے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا، پھر وہ صف میں ملنے کے لیے چلے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ چکے، تو آپ نے پوچھا: ”تم میں سے کس نے صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کیا تھا، پھر وہ صف میں ملنے کے لیے چل کر آیا؟“، ابوبکرہ نے کہا: میں نے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تمہاری نیکی کی حرص کو بڑھائے، آئندہ ایسا نہ کرنا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «زياد الأعلم» سے مراد زیاد بن فلاں بن قرہ ہیں، جو یونس بن عبید کے خالہ زاد بھائی ہیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 684]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11659) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
انظر الحديث السابق (683)
الحكم: صحيح