بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مقتدیوں کو حکم ہے کہ وہ امام کی اتباع کریں۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: نماز کے احکام و مسائل باب: مقتدیوں کو حکم ہے کہ وہ امام کی اتباع کریں۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 619 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُبَادِرُونِي بِرُكُوعٍ وَلَا بِسُجُودٍ، فَإِنَّهُ مَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا رَكَعْتُ تُدْرِكُونِي بِهِ إِذَا رَفَعْتُ إِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رکوع اور سجود میں تم مجھ سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کیا کرو، کیونکہ میں رکوع کرنے میں تم سے جس قدر آگے ہوں گا، میرے سر اٹھانے پر تمہاری یہ تلافی ہو جائے گی (کہ تم اتنا یہ تاخیر سے سر اٹھاؤ گے) بلاشبہ میں کسی قدر بھاری ہو گیا ہوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 619]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 41 (963)، (تحفة الأشراف: 11426)، وقد أخرجہ: حم(4/92، 98)، سنن الدارمی/الطھارة 72 (782) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
یہاں جسمانی طور پر بھاری پن کے اظہار سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مطلب، نماز کے ارکان کی ادائیگی میں اعتدال و توازن ہے۔ یعنی میرے سر اٹھانے تک تم رکوع ہی میں رہو، یہ عوض ہو جائے گا اس مدت کا جو تم میرے بعد رکوع میں گئے تھے۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
صححه ابن حبان (الإحسان: 2226، 2227) وسنده حسن، وللحديث شواھد
الحكم: حسن صحيح
حدیث نمبر: 620 سنن ابو داؤد
حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ ، الْبَرَاءُ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ يَخْطُبُ النَّاسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ،" أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ مِنَ الرُّكُوعِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامُوا قِيَامًا، فَإِذَا رَأَوْهُ قَدْ سَجَدَ سَجَدُوا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
براء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے ... اور وہ جھوٹے نہ تھے ... کہ لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اپنے سروں کو رکوع سے اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہو جاتے، پھر جب وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ لیتے کہ آپ سجدے میں چلے گئے ہیں، تب سجدہ میں جاتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 620]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 52 (690)، 91 (747)، 133 (811)، صحیح مسلم/الصلاة 39 (474)، سنن الترمذی/الصلاة 93 (281)، سنن النسائی/الإمامة 38 (830)، مسند احمد (4/292، 300، 304)، (تحفة الأشراف: 1772) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
مقتدی کو امام کی اقتداء کا ادب بتایا گیا ہے کہ جب امام رکوع میں چلا جائے تب مقتدی رکوع کریں۔ اسی طرح جب امام سر اٹھائے تب سر اٹھائیں اور جب وہ اپنی پیشانی زمین پر رکھ چکے تب سجدہ کریں اور مقتدی کا اپنے امام سے پیچھے رہنا واجب ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (747) صحيح مسلم (474)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 621 سنن ابو داؤد
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَهَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، سُفْيَانُ ، أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ ، الْحَكَمِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَهَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، قَالَ زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الْكُوفِيُّونَ أَبَانُ وَغَيْرُهُ،عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَحْنُو أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو ہم میں سے کوئی شخص اس وقت تک اپنی پیٹھ نہیں جھکاتا جب تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو (زمین پر اپنی پیشانی رکھتے ہوئے) نہ دیکھ لیتا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 621]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 39 (474)، (تحفة الأشراف: 1784) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
مقتدی کو امام کی اقتداء کا ادب بتایا گیا ہے کہ جب امام رکوع میں چلا جائے تب مقتدی رکوع کریں۔ اسی طرح جب امام سر اٹھائے تب سر اٹھائیں اور جب وہ اپنی پیشانی زمین پر رکھ چکے تب سجدہ کریں اور مقتدی کا اپنے امام سے پیچھے رہنا واجب ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (474)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 622 سنن ابو داؤد
الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ ، الْبَرَاءُ
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ،" أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَكَعَ رَكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، لَمْ نَزَلْ قِيَامًا حَتَّى يَرَوْهُ قَدْ وَضَعَ جَبْهَتَهُ بِالْأَرْضِ ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو جب آپ رکوع کرتے تو وہ بھی رکوع کرتے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم «سمع الله لمن حمده» کہتے تو ہم کھڑے رہتے یہاں تک کہ لوگ آپ کو اپنی پیشانی زمین پر رکھتے دیکھ لیتے، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے سجدہ میں جاتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 622]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 1773) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
مقتدی کو امام کی اقتداء کا ادب بتایا گیا ہے کہ جب امام رکوع میں چلا جائے تب مقتدی رکوع کریں۔ اسی طرح جب امام سر اٹھائے تب سر اٹھائیں اور جب وہ اپنی پیشانی زمین پر رکھ چکے تب سجدہ کریں اور مقتدی کا اپنے امام سے پیچھے رہنا واجب ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (474)
الحكم: صحيح