حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ ، الْبَرَاءُ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ يَخْطُبُ النَّاسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ،" أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ مِنَ الرُّكُوعِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامُوا قِيَامًا، فَإِذَا رَأَوْهُ قَدْ سَجَدَ سَجَدُوا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
براء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے ... اور وہ جھوٹے نہ تھے ... کہ لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اپنے سروں کو رکوع سے اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہو جاتے، پھر جب وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ لیتے کہ آپ سجدے میں چلے گئے ہیں، تب سجدہ میں جاتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 620]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأذان 52 (690)، 91 (747)، 133 (811)، صحیح مسلم/الصلاة 39 (474)، سنن الترمذی/الصلاة 93 (281)، سنن النسائی/الإمامة 38 (830)، مسند احمد (4/292، 300، 304)، (تحفة الأشراف: 1772) (صحیح)»
وضاحت
مقتدی کو امام کی اقتداء کا ادب بتایا گیا ہے کہ جب امام رکوع میں چلا جائے تب مقتدی رکوع کریں۔ اسی طرح جب امام سر اٹھائے تب سر اٹھائیں اور جب وہ اپنی پیشانی زمین پر رکھ چکے تب سجدہ کریں اور مقتدی کا اپنے امام سے پیچھے رہنا واجب ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (747) صحيح مسلم (474)
الحكم: صحيح