مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، أَبُو خَلْدَةَ ، أَبَا الْعَالِيَةِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا أَبُو خَلْدَةَ، قَالَ:" سَأَلْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ عَنْ رَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَنَابَةٌ وَلَيْسَ عِنْدَهُ مَاءٌ وَعِنْدَهُ نَبِيذٌ، أَيَغْتَسِلُ بِهِ؟ قَالَ: لَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوخلدہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالعالیہ سے اس شخص کے متعلق پوچھا جسے جنابت لاحق ہوئی ہو اور اس کے پاس پانی نہ ہو، بلکہ نبیذ ہو تو کیا وہ اس سے غسل کر سکتا ہے؟ آپ نے کہا: نہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 87]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 18640) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح